کینسر کے بعد’’لیور سروسس‘‘مہلک بیماری

RushdaInfotech September 17th 2018 p
کینسر کے بعد’’لیور سروسس‘‘مہلک بیماری

کولکتہ، 16 ستمبر (یواین آئی) جسم کی سب سے بڑے اور اہم اعضاء میں سے ایک جگر میں ہونے والی ' سروسس 'کی بیماری کینسر کے بعد سب سے خطرناک ہے جس کا آخری علاج ' ’لیور ٹرانسپلنٹ‘ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں تقریباً ایک کروڑ لوگ اس بیماری کی گرفت میں ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او ) کی رپورٹ کے مطابق’لیور سروسس‘کے 20سے 50فیصد معاملے شراب کا زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے دیکھنے کو ملے ہیں۔ وقت رہتے علاج نہیں ہونے پر جگر کام کرنا بند کر دیتا ہے اوراس سے آدمی کی موت تک ہوسکتی ہے ۔ پاکستان کے شہر لاہور میں واقع یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس (یوایچ ایس) کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے 'یو این آئی ' کو آج بتایا کہ وائرل انفیکشن۔ ہیپاٹائٹس ۔'سي 'اور' بی 'جگر سروسس کے اہم وجوہات میں سے ایک ہیں۔یہ انفیکشن پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش سمیت ترقی پذیر ممالک میں بہت عام ہو گیا ہے ۔ یہ انفیکشن اسپتالوں میں صفائی کی کمی اور استعمال میں لائی گئی سرنج وغیرہ کے دوبارہ استعمال کرنے سے ہوتا ہے ۔اگر کوئی شخص اس وائرس سے متاثرہ شخص کے رابطے میں آتا ہے تو وہ بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے ۔ ان ممالک میں تقریبا ایک کروڑ لوگ لیور سروسس میں مبتلا ہیں اور تقریبا چار کروڑ ہیپاٹائٹس ۔سي اور بی سے متاثر ہیں۔پروفیسر اکرم نے کہا، "شراب بھی اس بیماری کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے ۔طویل عرصے سے شراب کے مزید استعمال سے جگر میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے جو اس بیماری کا سبب بن سکتی ہے ۔ "لیکن جو شخص شراب میں ہاتھ تک نہیں لگاتا، وہ بھی اس بیماری کی زد میں آ سکتا ہے ۔ اسے ’نیش سروسس‘یعنی نان ایلکوھلک سیٹو ہیپاٹائٹس کے نام سے جانا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سروسس کا آخری علاج لیور ٹرانسپلانٹ ہے ۔ اس کا علاج 75 فیصد تک کامیاب سمجھا جاتا ہے ۔ خاندان کے کسی بھی رکن کے جگر کا چھوٹا سا حصہ لے کر مریض کے جگر میں منتقل کردیا جاتا ہے ۔ڈونر کو کسی طرح کا کوئی خطرہ تقریباً نہ کے برابر ہوتا ہے ۔اس بیماری کی زد میں آنے سے سوزش کی وجہ سے بڑے پیمانے پر جگر کی خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور ان کی جگہ فائبر لے لیتے ہیں۔اس کے علاوہ جگر کی بناوٹ بھی غیر معمولی ہو جاتی ہے اور اس سے ’پورٹل ہائپرٹینشن‘کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے ۔شراب کا ضرورت سے زیادہ مقدار میں استعمال کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی اور وائرسل ۔سی انفیکشن سے بھی یہ بیماری پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس دوران خون میں آئرن کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جگر میں چربی جمع ہو جانے سے یہ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی موٹاپا اور ذیابیطس اس بیماری کی اہم وجہ ہیں۔لیور سروسس میں پیٹ میں ایک مادہ جیسا بن جاتا ہے اور یہ صورت حال خون اور مادے میں پروٹین اور البومن کی سطح بنے رہنے کی وجہ سے تیارہوتی ہے ۔ جگر کے بڑھنے سے پیٹ موٹا ہو جاتا ہے اور اس میں درد بھی شروع ہو جاتا ہے ۔سروسس کی علامات تین سطح پر سامنے آتی ہیں۔ ابتدائی سطح میں شخص کو غیر ضروری تھکان محسوس ہوتی ہے ۔ ساتھ ہی، اس کا وزن بھی بے وجہ کم ہونے لگتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہاضمے سے متعلق مسائل پیدا ہوجاتے ہیں ۔اس بیماری کے دوسرے مرحلے میں انسان کواچانک چکر آنے لگتا ہے اور الٹیاں ہونے لگتی ہیں۔ اسے بھوک نہیں لگتی اور بخار کی طرح کے علامات رہتے ہیں۔تیسری اور آخری پوزیشن میں مریض کو متلی کے ساتھ خون آتا ہے اور وہ بے ہوش ہو جاتا ہے ۔ اس بیماری میں منشیات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ٹرانسپلانٹ واحد علاج ہے ۔


Recent Post

Popular Links