مساوات کے ذریعے ہی سماج میں بدلاو¿ لانا ممکن
ووٹ چوری کے ذریعے آئین اورجمہوریت کو کمزورکیا جا رہا ہے: سدارامیا
بنگلورو۔15ستمبر(سالار نیوز)وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ جمہوریت کی حفاظت اس ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کو ہر کوئی بلا عذر ادا کرے ۔ جمہوریت کی حفاظت سے ہی ملک کی حفاظت بھی ممکن ہے۔محکمہ سماجی بہبود کے زیر اہتمام عالمی یوم جمہوریت کے پروگرام سے خطاب کے دوران سدارامیا نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک تکثیری معاشرے پر مبنی ملک ہے اس ملک میں کثرت میں وحد ت کے نظریہ کی حفاظت کےلئے ہی جمہوریت کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ ذات پات پر مبنی نظام سے اس ملک میں عدم مساوات کو بڑھاوا ملا ۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے جو آئین ترتیب دیا اس کے ذریعے انہوں نے عدم مساوات کو مٹانے کی کامیاب کوشش کی۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ملک میں ہزاروں برس سے جو مظلوم طبقات تھے ان کو سماجی، معاشی اورتعلیمی میدانوں میں انصاف ملے۔ جب تک ان مقاصد کو حاصل نہ کر لیا جائے جمہوریت کو حقیقی معنوں میں حاصل نہیں کیا جا سکتا۔وزیر اعلی نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ اقتدار پر قابض رہنے کےلئے کچھ طاقتیں آج ووٹ چوری کا راستہ اپنا رہی ہیں اورجمہوریت کو کمزورکرنے کی کوشش میں لگی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے امیر لوگ اقتدار پر قابض رہیں گے اور مظلوموں کا آواز کو دبادیا جائے گا۔ عوام کو اس کے خلاف کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ایک فرد ایک ووٹ کا نظام رائج ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے آئین کو مٹانے کی جو کوشش ہو رہی ہے اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔آئین کی حفاظت کرنا اس ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں باہمی تعلقات اوررواداری کے بغیر عدم مساوات کے نظام کا خاتمہ ممکن نہیں۔ جمہوری نظام کے تحت تمام مذاہب اور ذاتوں کو یکسانیت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اس میں کسی کو کسی پر فوقیت نہیں دی گئی ہے۔عوام اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی کو اپنے فائدہ کےلئے جمہوریت کے غلط استعمال کا موقع نہ ملے۔ معروف کنڑا ادیبہ بانو مشتاق کو دسہرا تقریبات کے افتتاح سے روکنے کی کوشش کوتعصب کا اندھا پن قرار دیتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ اس ملک میں تعصب کے سبب معاشرے میں نفرتیں بڑھی ہیں اس کو ختم کرنا ملک کے ہر انصاف پسند شہری کی ذمہ داری ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر نوجوانوں میں آئین اوراس کے تئیں حقوق وذمہ داریوں کے بارے میں عام بیداری کی ضرورت پر زور دیا۔ پروگرام میں نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار، وزیر برائے سماجی بہبود ڈاکٹر ایچ سی مہا دیو اپا، رکن اسمبلی وبی ڈی اے چیرمین این اے حارث، وزیر اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری نصیر احمد ودیگر موجود تھے۔
Write more, thats all I have to say. Literally, it seems as though you relied on the video to make your point. You definitely know what youre talking about, why throw away your intelligence on just posting videos to your weblog when you could be giving us something enlightening to read?
Thank you for the auspicious writeup. It in fact was a amusement account it. Look advanced to far added agreeable from you! However, how can we communicate?
You really make it appear really easy with your presentation however I to find this matter to be actually one thing that I feel I would never understand. It sort of feels too complicated and very extensive for me. I’m looking ahead to your next submit, I will try to get the dangle of it!
Outstanding post, I believe blog owners should learn a lot from this site its rattling user genial.
Nice post. I was checking constantly this blog and I’m impressed! Very useful information particularly the last part 🙂 I care for such info a lot. I was looking for this certain info for a very long time. Thank you and good luck.
Outstanding post, you have pointed out some great points, I too think this s a very great website.
Really clear web site, thanks for this post.
This website is known as a walk-through for all the data you needed about this and didn’t know who to ask. Glimpse here, and you’ll definitely discover it.
Sesudah saya pertama kali berkomentar saya mencentang kotak -Beri tahu saya ketika umpan balik baru ditambahkan- dan sekarang tiap kali sebuah tanggapan ditambahkan saya menerima empat email dengan komentar yang sama. Apakah ada pendekatan Anda mungkin bisa mengeluarkan saya dari layanan itu? Terima kasih!