کابےنہ کی ازسرنوتشکےل کااشارہ،کانگرےس مےں سےاسی درجہ حرارت بڑھ گےا
دسمبرمےں بڑی سےاسی ہلچل متوقع،کھرگے کی رہائش گاہ پرملاقاتو ںکاسلسلہ تےز
بنگلورو۔8اکتوبر(سالارنےوز)وزیر اعلیٰ سدارامیا کی جانب سے کابینہ کی از سر نو تشکیل کے اشارے ملتے ہی ریاستی کانگریس میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ جو امید وار اب تک خاموش تھے، وہ اب متحرک ہو گئے ہیں اور مختلف طریقوں سے لابنگ شروع کر دی ہے۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو سال کے آخر تک کابینہ کی از سر نو تشکیل تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے۔ایک طرف وزیر اعلیٰ کی تبدیلی پر بحث جاری ہے، تو دوسری طرف سدارامیا نے واضح کر دیا ہے کہ اگلی مدت تک وہی وزیر اعلیٰ رہیں گے۔ اس بیان کے فوراً بعد انہوں نے کابینہ کی از سر نو تشکیل کا اشارہ دیا۔ والمیکی جینتی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا جس سے امید واروں میں نئی امید جاگ اٹھی ہے۔
وزارت کا خواب دوبارہ جاگ اٹھا:وزیر اعلیٰ سدارامیا کے بیان کے بعد کئی امید واروں میں وزارت کا خواب دوبارہ جاگ اٹھا ہے۔ دو درجن سے زیادہ ارکان اسمبلی اس امید میں ہیں کہ انہیں اس بار کابینہ میں جگہ ضرور ملے گی۔ اس اشارے کے بعد دباو¿ کی سیاست بھی شروع ہو گئی ہے۔ کئی امید وار وزیر اعلیٰ کے قریب آنے کی کوشش میں ہیں، جب کہ کچھ نے کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔
کھرگے سے ملاقات کی دوڑ:وزارت کے خواہشمند رہنما ﺅں کی جانب سے ملےکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر ملاقاتوں کاسلسلہ شروع ہوگےاہے۔ وہ ان کی عیادت کے بہانے ملاقات کر رہے ہیں تاکہ اپنی لابنگ کو آخری مرحلے تک پہنچا سکیں۔ اگر دسمبر میں کابینہ کی از سر نو تشکیل ہوتی ہے تو یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ہائی کمان کس کسوٹی پر فیصلے کرتی ہے۔ یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ تقریباً ڈھائی سال مکمل کرنے والے کچھ وزیروں کو ہٹا کر انہیں تنظیمی ذمہ داریاں دی جا سکتی ہیں، جب کہ نئے چہروں کو موقع دیا جائے گا تاکہ اگلے ڈھائی سال انتخابی تیاریوں پر مرکوز رہ سکیں۔
کئی دعوے دار قطار میں:اگر کابینہ کی تشکیل نو ہوتی ہے تو کافی امید وار قطار میں کھڑے ہیں۔ کچھ نے تو کھل کر اپنی خواہش ظاہر کی ہے۔ سلیم احمد نے کہا کہ وہ وزارت کے خواہشمند ہیں، جبکہ نریندر سوامی کو بھی یقین ہے کہ انہیں اس بار وزارت ملے گی۔ والمیکی برادری کے ارکان اسمبلی نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان کی برادری کو کم از کم دو وزارتیں دی جائیں۔ بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے وزارت سے برطرف ہونے والے بی ناگندرا بھی دوبارہ واپسی کے خواہشمند ہیں۔ تاہم فی الحال
I genuinely enjoy looking through on this internet site, it has good blog posts.
I loved as much as you’ll obtain carried out right here. The caricature is attractive, your authored subject matter stylish. however, you command get got an nervousness over that you would like be handing over the following. ill unquestionably come more before once more as precisely the similar just about a lot ceaselessly within case you defend this increase.
Very good written post. It will be beneficial to anybody who employess it, as well as me. Keep up the good work – looking forward to more posts.
Your home is valueble for me. Thanks!…
I appreciate, cause I found exactly what I was looking for. You have ended my 4 day long hunt! God Bless you man. Have a nice day. Bye
I adore looking at and I believe this website got some really utilitarian stuff on it! .
Greetings! This is my first comment here so I just wanted to give a quick shout out and tell you I really enjoy reading your posts. Can you recommend any other blogs/websites/forums that cover the same subjects? Appreciate it!
Namun, terima kasih untuk artikel yang menonjol ini dan meskipun saya tidak sepakat sepenuhnya, saya menghargai sudut pandang.
Saya tidak biasanya berkomentar tetapi saya harus mengakui hargai untuk posting yang luar biasa ini : D.
Saya tidak biasanya berkomentar tetapi saya harus mengakui salam untuk posting yang sempurna ini : D.
I’ve recently started a blog, the information you offer on this website has helped me tremendously. Thank you for all of your time & work. “The more sand that has escaped from the hourglass of our life, the clearer we should see through it.” by Jean Paul.
Saya mendapatkan info yang bagus dari blog Anda.
Outstanding post, I think website owners should learn a lot from this weblog its really user friendly.
Saya tanpa henti memikirkan hal ini, terima kasih telah mengunggah.