کیسری اکیلا نہیں، تین رنگوں کے سنگم سے بنتا ہے ہمارا ترنگا
سےکولرازم کانقاب اترا ےارنگ بدلا،جے ڈی اےس پرپرےنک کھرگے کاوار
بنگلورو-8اکتوبر(سالارنےوز) رےاستی وزےربرائے آئی ٹی بی ٹی پرینک کھرگے اور جنتا دل (سیکولر) کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر زبردست لفظی جنگ جاری ہے-یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کی 100 سالہ تکمیل کے موقع پر جے ڈی ایس نے ایک پوسٹ کے ذریعے آر ایس ایس کو مبارکباد دی- اس کے بعد وزیر پرینک کھرگے اور جے ڈی ایس کے درمیان زوردار بحث چھڑ گئی-جے ڈی ایس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ”آر ایس ایس کی جدوجہد وابستگی، نظم و ضبط اور سماجی خدمت کے راستے پر آگے بڑھی ہے-“ اس بیان پر ردعمل ظاہرکرتے ہوئے پرینک کھرگے نے ٹویٹ کیاکہ جے ڈی ایس کو اپنے نام سے” سےکولر“ لفظ ہٹا کر سیاست کرنی چاہیے- گوسمبھا (گرگٹ) صرف رنگ بدلتا ہے، مگر جے ڈی ایس نے صرف رنگ ہی نہیں بلکہ نظریہ اور باتیں بھی بدل کر اپنا اصل چہرہ دکھا دیا ہے- جو لوگ پہلے آر ایس ایس کوسدانند کا پریوار کہتے تھے، آج وہی اس کے ساتھ رہ کر ’سدا آنند‘ محسوس کر رہے ہیں!مزید طنز کرتے ہوئے وزیر نے کہاآر ایس ایس دراصل سدانند‘ کا پریوار نہیں بلکہ اقتدار کا لالچ، بالواسطہ حکمرانی کی سازش اور ’ہندوتوا‘ کے ہتھیار کا استعمال کرنے والا گروہ ہے-انہوں نے زعفرانی تنظےم کے وجودپرسوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ آر ایس ایس کہاں رجسٹرڈ ہے؟ اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ اس کے اثاثوں، لین دین اور آمدنی کے ذرائع کا حساب کہاں ہے؟ جس عمارت میں سنگھ کام کرتا ہے، کیا وہ خود کی ملکیت ہے یا کسی اور کے نام پر؟ جمہوری نظام میں منتخب وزراءکے اختیارات کو درکنار کر کے افسروں کے ذریعے حکمرانی کیوں کی جا رہی ہے؟انہوں نے مزید کہا کہ یہ تنظیم اس دھرتی کے قانون، آئین اور قومی پرچم کا احترام نہیں کرتی، بلکہ یہ اس ملک کے لیے زہر گھولنے والا ناگ سانپ ہے- ان کے رہنماو¿ں اور آر ایس ایس کے بارے میں جو سخت الفاظ میرے ہیں، وہی کمارا سوامی کے بھی ہیں- جے ڈی ایس کے سوشل میڈیا منتظمین کو کمارا سوامی کا وہ خوبصورت مضمون ایک بار پھر پڑھنا چاہیے، جس میں انہوں نے آر ایس ایس کی گھٹیا خصوصیات اور بگڑی ہوئی عادتوں کو بیان کیا ہے-آخر میں پرینک کھرگے نے طنز کرتے ہوئے کہاجے ڈی ایس کو معلوم ہونا چاہیے کہ تین رنگوں کے بغیر کوئی پرچم ہمارا قومی پرچم نہیں بن سکتا- سیکولرازم کا مطلب انہی تین رنگوں (ترنگے) کی یکجائی ہے- صرف کیسری رنگ کے حامی بننے سے سیکولر نہیں ہوا جا سکتا- آر ایس ایس نے ہمارے ترنگے جھنڈے کی مخالفت کر کے ملک دشمن رویہ اختیار کیا تھا – یہ بات چڈی پہننے والے جے ڈی ایس والوں کو یاد رہنی چاہیے-
seo продвижение цена в месяц [url=www.reiting-runeta-seo.ru]seo продвижение цена в месяц[/url] .
I’m really impressed with your writing skills and also with the layout on your weblog. Is this a paid theme or did you modify it yourself? Either way keep up the excellent quality writing, it’s rare to see a nice blog like this one these days..
I’m still learning from you, as I’m making my way to the top as well. I definitely love reading all that is posted on your blog.Keep the aarticles coming. I liked it!
Anda bisa jelas melihat antusiasme Anda di dalam karya yang Anda tulis. Dunia berharap ada lebih banyak lagi penulis penuh semangat seperti Anda yang tidak takut menyatakan apa yang mereka yakini. Selalu kejar hati Anda.
Dengan seluruhnya yang mana terlihat sedang dibangun dalam topik ini, pandangan Anda adalah relatif radikal. Meskipun demikian, saya maaf, karena saya tidak dapat memberikan kepercayaan pada keseluruhan teori Anda, meskipun menyegarkan. Sepertinya bagi semua orang bahwa komentar Anda tidak benar-benar tervalidasi dan pada faktanya Anda diri Anda tidak benar-benar sepenuhnya yakin terhadap poin tersebut. Dalam hal apa pun saya menghargai membacanya.
Saya setuju dengan semua ide yang Anda sajikan dalam posting Anda. Itu benar-benar meyakinkan dan pasti akan berhasil. Namun, postingnya terlalu singkat untuk pendatang baru. Bisakah Anda memperpanjangnya sedikit mulai waktu berikutnya? Terima kasih atas postingnya.
Saya benar-benar ingin mengirim komentar singkat untuk menghargai Anda atas semua saran luar biasa yang Anda bagikan di situs ini.