urdu news today live

عائشہ آمےنہ ٹرسٹ کی ملکیت ٹرسٹ کو لوٹا دی گئی
ٹرسٹ کے صدر اور ٹرسٹےوں کے خلاف درج اےف آئی آر منسوخ کی جائے:احمد شرےف سراج
بنگلور11 اکتوبر(سالار نیوز)شہر کے ایک ادارے عائشہ آمےنہ ٹرسٹ نگرتھ پےٹ بنگلور کے صدر ڈاکٹر احمد شرےف سراج نے کہا ہے کہ اس ادارے کے تحت آنے والے زمین کے ایک چھوٹے سے تکڑے پر قبضہ کرنے اور اسے فروخت کردینے کا جو الزام ان پر اور ان کے اہل خانہ پر لگا کر ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تھی وہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ 525مربع فیٹ زمین کو انہوں نے اور ان کے اہل خانہ نے عائشہ آمینہ ٹرسٹ کی ملکیت میں بحال کر دیا ہے اور اس کے بارے میں وقف بور ڈ کو بھی مطلع کر دیا ہے۔ انہوں نے کرناٹکا اسٹےٹ وقف بورڈ سے مطالبہ کےا ہے کہ ٹرسٹ کی جائےداد سے متعلق پولےس مےں درج اےف آئی آر کو واپس لے کر معاملہ کو بند کےا جائے۔ ڈاکٹر احمد شرےف سراج نے آج ےہاں مےڈےا کو بتاےا کہ ان کے اور ٹرسٹ کے دےگر ٹرسٹےوں کے خلاف درج اےف آئی آر حقےقت پر مبنی نہےں ہے۔ اور شکاےت سراسر جھوٹی ہے۔ احمد سراج نے بتاےا کہ مےرے اور دےگر ٹرسٹےوں کے خلاف الزام ہے کہ عائشہ آمےنہ ٹرسٹ کی جائےداد مےں سے525 اسکوائرفٹ جگہ ہم اپنے نام رجسٹر کرکے دوکانےںتعمےر کرکے ماہانہ پانچ لاکھ روپئے وصول کررہے ہےں۔ ٹرسٹ کے سابق سکرےڑی سبحان شرےف کی شکاےت پر وقف بورڈ افسر نے اےف آئی آر درج کےا ہے۔ احمد سراج کا کہنا ہے وقف بورڈ نے نہ تو دستاوےزات کی جانچ کی اور نہ ہی وجہ بتاﺅ نوٹس جاری کی۔ بغےر تحقےقات کئے پولےس مےں ےف آئی آر درج کےا ہے ےہ وقف بورڈ کی کوتاہی ہے۔سراج آج کل علےل ہےں وہ زےادہ بات نہےں کرپارہے ہےں۔ ان کی طرف سے کانگریس رہنما محمدعبےداللہ شرےف نے مےڈےا کو بتاےا کہ ڈاکٹر احمد شرےف سراج کے والد مرحوم حاجی نبی شرےف نے آگست 1972مےں عائشہ آمےنہ ٹرسٹ کے نام سے ادارہ قائم کےا تھا۔ جس مےں ان کے بڑے فرزند محی الدےن شرےف اور قرےبی رشتہ دار شامل تھے ۔ مرحوم نبی شرےف نے ےس پی روڈ پر اپنی ذاتی رقم سے 6541 اسکوائرفٹ جگہ خرےد کر عائشہ آمےنہ ٹرسٹ کو وقف کردی ۔ اس کے سےل ڈےڈ کے دستاوےزات موجود ہےں۔ ڈاکٹر احمد سراج کی معرفت عبےداللہ شرےف نے تمام دستاوےزات کے ساتھ مےڈےا کو بتاےا کہ دس سال بعد ٹرسٹ کے سکرےڑی نے اکتوبر 1984 مےں عائشہ آمےنہ ٹرسٹ کو کرناٹکا اسٹےٹ وقف بورڈ مےں رجسٹر کراےا۔ جس مےں جائےداد کا رقبہ 6051 اسکو ائر فیٹ درج ہے۔ جس کی وقف بورڈ سے درج رجسٹرےشن سرٹی فکےٹ بھی موجود ہے۔ اس جگہ کے علاوہ احاطہ مےں بقےہ جگہ بنی شرےف کے نام پر تھی۔ ہم اس جگہ پر دوکانےں تعمےر کر کے کراےہ وصول کےا کرتے تھے۔ ڈاکٹر احمد شرےف سراج نے بتاےا کہ ہمارے تعلق سے غلط بےانی ہونے لگی تو ہم نے اس جگہ کو بھی عائشہ آمےنہ ٹرسٹ کے نام وقف کردےا ہے۔ اب ےہ جگہ مکمل ٹرسٹ کی ہے۔ اس مےں ہمارا کوئی عمل دخل نہےں ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وقف بورڈ ہمارے خلاف دائر اےف آئی آر کو واپس لےں۔

13 thoughts on “

  1. I do trust all the ideas youve presented in your post They are really convincing and will definitely work Nonetheless the posts are too short for newbies May just you please lengthen them a bit from next time Thank you for the post

  2. Your blog is a treasure trove of valuable insights and thought-provoking commentary. Your dedication to your craft is evident in every word you write. Keep up the fantastic work!

  3. Excellent read, I just passed this onto a colleague who was doing some research on that. And he actually bought me lunch since I found it for him smile Therefore let me rephrase that: Thank you for lunch! “Life is a continual upgrade.” by J. Mark Wallace.

  4. Someone essentially assist to make significantly articles I might state. This is the very first time I frequented your web page and to this point? I surprised with the analysis you made to make this actual submit extraordinary. Magnificent process!

  5. Great post. I was checking continuously this blog and I am impressed! Extremely helpful information particularly the last part 🙂 I care for such info a lot. I was seeking this particular info for a long time. Thank you and good luck.

  6. It’s really a nice and useful piece of info. I’m satisfied that you simply shared this useful information with us. Please stay us informed like this. Thank you for sharing.

  7. Anda dapat pasti melihat keahlian Anda di dalam karya yang Anda tulis. Dunia berharap ada lebih banyak penulis penuh semangat seperti Anda yang tidak takut menyatakan apa yang mereka yakini. Senantiasa ikuti hati Anda.

  8. I am so happy to read this. This is the type of manual that needs to be given and not the accidental misinformation that is at the other blogs. Appreciate your sharing this greatest doc.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *