urdu news today live

ہمسایوں کے مذہب کا احترام، رواداری اور بھائی چارہ ہمارا نصب العین
آر ایس ایس پر کوئی پابندی نہیں،تعلےمی اداروں مےں تنظےمی اجلاس کے لےے اجازت نامہ لازمی: سدارامیا
بنگلورو، 20 اکتوبر(سالارنےوز)رےاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ مساوی سماج کی تشکیل کے لیے صاحبِ حیثیت افراد کو چاہیے کہ وہ غریبوں کی مدد کریں۔ بروزپےرساحلی علاقہ پ±تّور میں رائے اسٹیٹ ایجوکیشنل اینڈ چاری ٹیبل ٹرسٹ کی جانب سے تعلقہ اسٹیڈیم میں منعقدہ ”اشوک جنمن 2025“ پروگرام کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ اشوک، جو کانگریس کے رکن اسمبلی ہیں، گزشتہ 13 سالوں سے ٹرسٹ کے ذریعے مستحق افرادمےںکپڑوں کی تقسیم کا کام کر رہے ہیں اور آج ایک لاکھ لوگوں میں کپڑے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو دوسروں کے لیے ایک مثال قرار دیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سماج کے کمزور طبقوں کو اپنی آمدنی کا ایک حصہ دینا ایک نیک عمل ہے۔ مساوی سماج کی تشکیل دستورِ ہند کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بسویشور نے ہمیں ”کایکا اور داسوہ“ (محنت و خدمت) کا فلسفہ دیا ہے۔مذہبی رواداری اور بقائے باہمی کی ضرورت ہے۔سدارامیا نے مزےد کہا کہ ہمارا ملک ”تنوع میں اتحاد“ کی پہچان ہے۔ ہمیں ایسا سماج بنانا ہے جہاں تمام مذاہب کے لوگ امن و بھائی چارے سے رہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف نفرت یا عدم مساوات نہیں ہونی چاہیے۔ دوسروں کے مذہب کے تئیں رواداری اور بقائے باہمی لازمی ہے، اور جب ہم سب اس پر عمل کریں گے تو یہ دستور کے مقاصد کی تکمیل ہوگی۔فی کس آمدنی کے سلسلہ مےں سدارامےانے کہاکہ فی کس آمدنی کے سلسلہ مےں کرناٹک سرفہرست رےاست ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں انابھاگےہ اسکیم بھوک مٹانے کے لیے شروع کی گئی تھی، جب کہ ”شکتی یوجنا“ خواتےن کے لےے شروع کےاگےا،اس کے نفاذ کے بعد عوام کی فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا،اس طرح کرناٹک فی کس آمدنی مےں ملک میں پہلے نمبر پر ہے۔ بعض لوگ حکومت کی گےارنٹی اسکیموں پر تنقید کرتے ہیں کہ اس سے خزانہ خالی ہو جائے گا، لیکن اگر حکومت کے پاس فنڈ نہ ہوتا تو پتّور اسمبلی حلقے کے لیے 2500 کروڑ روپے کی گرانٹ کیسے دی جاتی؟۔فرقہ وارانہ کشیدگی پر قابو حاصل کےے جانے کے معاملہ مےں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ منگلورضلع میں پہلے ذات پات اور مذہب کے نام پر جھگڑے بہت ہوتے تھے، لیکن موجودہ حکومت نے اس پر روک لگائی ہے۔ ایسے تنازعات میں اصل مجرم نہیں بلکہ غریب اور معصوم نوجوانوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل اور ایماندار افسران کی تقرری سے اب حالات میں بہتری آئی ہے۔ عوامی نمائندوں اور افسران کو باہمی تعاون سے کام کرنا چاہیے۔انہوں نے مزےدکہاکہ پ±تّور میں میڈیکل کالج قائم ہوگا۔انہوں نے اعلان کیا کہ بجٹ میں کیے گئے وعدے کے مطابق جنوبی کنڑا ضلع کا میڈیکل کالج پ±تّور میں ہی قائم کیا جائے گا اور اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔سدارامےانے کہاکہ رےاست مےں آر ایس ایس پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت نے آر ایس ایس پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ انہوں نے کہا کہ اسکول اور کالجوں کے احاطے میں کسی بھی تنظیم کواپنی سرگرمیاں کرنے کے لیے اجازت درکار ہوگی۔ اس حکم نامے میں کہیں بھی آر ایس ایس کا ذکر نہیں ہے۔ یہ وہی حکم ہے جو بی جے پی حکومت کے دور میں جاری کیا گیا تھا، ہم نے صرف اسے دوبارہ نافذ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2013 میں جب جگدیش شٹر وزیر اعلیٰ تھے، اسی دور میں تعلیم کے محکمے نے اسکول و کالج احاطوں میں تنظیمی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی تھی۔ اب وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کا فیصلہ نہیں تھا، حالانکہ وہی اس وقت وزیر اعلیٰ تھے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی تنظیم کو لازماً اجازت دینا ضروری نہیں، یہ فیصلہ امن و قانون کی صورتِ حال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔انہوں نے بی جے پی کانام لےے بغےرکہاکہ غرےبوں کے بچوں کومارنے کاکام نہ کرےں۔نفرت وعداوت نہ کرےں۔ہم سب انسان ہےں۔انسانےت کوکبھی نہ بھولےں۔پروگرام مےں وزےرصحت دنےش گنڈوراﺅ،مقامی کانگرےس لےڈرودےگراحباب شرےک رہے۔

4 thoughts on “

  1. This is really interesting, You’re a very skilled blogger. I’ve joined your feed and look forward to seeking more of your magnificent post. Also, I’ve shared your site in my social networks!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *