urdu news today live

سابق چیف جسٹس چندرچوڑ نے آئی آئی ٹی مدراس میں ‘ایکسیسبیلٹی ریسرچ سینٹر’ کا افتتاح کیا
چنئی، 31 اکتوبر (یو این آئی) ہندوستان کے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے جمعہ کے روز انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، مدراس (آئی آئی ٹی۔ایم) میں ‘ایکسیسبیلٹی ریسرچ سینٹر(اے آر سی) کا افتتاح کیا۔ آئی آئی ٹی مدراس نے آج ایک اعلامیہ میں بتایا کہ یہ اقدام تعلیمی ماحول، پالیسی اور تعلیمی ثقافت کی طرف ایک تبدیلی کا قدم ہے تاکہ رسائی کو ایک مشترکہ ذمہ داری بنایا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ یہ تعلیمی زندگی کے مرکز میں شامل ہے ۔ اے آر سی کی بنیاد ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز کے شعبہ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہیم چندرن کراہ نے رکھی ہے ۔ وہ تحقیقی مرکز کے پرنسپل تحقیق کار بھی ہیں۔ دیگر دو شریک بانی پروفیسر ساجی کے میتھیو، شعبہ مینجمنٹ اسٹڈیز کے چیئر اور پروفیسر نیلیش جے واسا، شعبہ انجینئرنگ ڈیزائن کے پروفیسر ہیں۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس چندرچوڑ نے کہا، اے آر سی کا افتتاح ادارے کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے ۔ یہ تین عناصر کا مجموعہ ہے : ٹیکنالوجی، عوامی پالیسی پر گفتگو اور رسائی کے اصولوں کی جمہوریت اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں وقار، آزادی اور مساوات کی اقدار مضمر ہیں۔انہوں نے مزید کہا، عوامی مکالمے کے ذریعے ہم اہم سوالات اٹھاتے ہیں، اقتدار کے سامنے سچ بولتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے ہیں اور مختلف تجربات سے سیکھ کر خود کو بہتر بناتے ہیں۔ لیکن معاشرتی تبدیلی کے لیے صرف گفتگو کافی نہیں۔ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور کوانٹم کمپیوٹنگ، ہماری زندگی اور سوچنے کے انداز کو بدل رہی ہے ۔ ہم روزانہ ان انقلابی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا، ”علم کی طاقت جو آئی آئی ٹی روایت میں سرایت کر گئی ہے انتہائی اہم ہے ، جیسا کہ معذور افراد تک رسائی فراہم کرنے کے لیے جدید علم کے ساتھ ٹیکنالوجی کا امتزاج ہے ۔” اس موقع پر آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی۔ کامکوٹی نے ادارے کی جانب سے مرکز کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا، اگر ہمارا ملک ترقی کرنا اور فخر کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے تو شمولیت ایک کلیدی عنصر ہے ۔ ہمیں ملک کے ہر شہری کے لیے مواقع کو جمہوری بنانا ہوگا۔ ہمارے ادارے نے ایکسیسبیلٹی کے لیے مرکز قائم کیا ہے ، وہیل چیئر اور اسکوٹر تیار کیے ہیں جو پورے کیمپس میں نقل و حمل کو آسان بناتے ہیں۔ آئی آئی ٹی مدراس نے ہندوستان کی سب سے ہلکی ایکٹیو وہیل چیئر بھی تیار اور لانچ کی ہے ۔ ہم معذور افراد کے لیے باقاعدہ کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں کے دن مناتے ہیں، جہاں ہمیں بے پناہ صلاحیتیں دکھائی دیتی ہیں۔اس تقریب میں کئی ممتاز شخصیات نے شرکت کی جنہوں نے ایک جامع تعلیمی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کی اہمیت پر زور دیا۔

7 thoughts on “

  1. Срочный выкуп авто — это эффективная услуга для тех, кто хочет продать транспорт без задержек.
    Сервисы срочного выкупа оценивают машины в короткие сроки.
    По результатам осмотра клиент может согласовать сумму сделки.
    Главным достоинством срочного выкупа является мгновенное получение денег.
    Больше не требуется размещать объявления.
    Компания сама оформляют сделку по закону.
    Подобная продажа подходит тем, кто не хочет ждать.
    Выкуп транспортного средства — это разумный способ освободиться от ненужной машины.
    https://swaay.com/u/autolombard11/

  2. Thank you, I’ve just been searching for info about this subject for ages and yours is the greatest I’ve discovered so far. But, what about the conclusion? Are you sure about the source?

  3. Hello! This is kind of off topic but I need some help from an established blog. Is it very difficult to set up your own blog? I’m not very techincal but I can figure things out pretty fast. I’m thinking about making my own but I’m not sure where to start. Do you have any tips or suggestions? Cheers

  4. Great beat ! I would like to apprentice even as you amend your website, how could i subscribe for a weblog site? The account aided me a applicable deal. I had been a little bit familiar of this your broadcast offered brilliant transparent concept

  5. Pretty nice post. I simply stumbled upon your weblog and wanted to say that I have truly loved browsing your weblog posts. In any case I’ll be subscribing on your rss feed and I hope you write once more very soon!

  6. If some one wants expert view on the topic of blogging afterward i propose him/her to pay a visit this blog, Keep up the good work.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *