قیادت کی تبدیلی ےا کابینہ میں ردوبدل، ہائی کمان کا فیصلہ حتمی :پرمےشور
گنے کے کاشتکاروں کا احتجاج، صورتحال مزید خراب ہوئی تو محکمہ پولیس نپٹنے کےلئے پوری طرح مستعد
بنگلورو۔4نومبر(سالار نےوز) وزےر داخلہ ڈاکٹر جی پرمےشور نے بتاےا کہ وزےر برائے شوگر شیوانند پاٹل سے گنے کے کاشتکاروں کے مسائل کو حل کرنے کےلئے فوری کارروائی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔وزیر داخلہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو محکمہ پولیس کو ایک چیلنجنگ صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کل وزیر شیوانند پاٹل کے ساتھ بھی بات چیت کی تھی اور انہیں جلد از جلد مسئلہ حل کرنے کا مشورہ دیا تھا، گنے کی قیمت پر کنٹرول یا قیمت کے تعین کے حوالے سے جلد فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسانوں کا احتجاج جاری رہا تو محکمہ پولیس کےلئے اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔وزیر شیوانند پاٹل نے شکر فیکٹریوں کے بارے میں وزرا ءستیش جارکی ہولی اور لکشمی ہےبلکر کے ساتھ بات چیت کرنے اور مسئلہ حل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوںنے بتاےا کہ گزشتہ دنوں گنے کے کاشتکار نے زہر پی کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی ، پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے اسے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات مستقبل میں ایک چیلنجنگ صورتحال پیدا کریں گے۔پرمےشور نے کہا کہ بی جے پی ایسی صورتحال کا انتظار کر رہی ہے، اس لئے ان کا سیاست کرنا فطری امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کوان حالات کو یاد رکھنا چاہئے تھا جب وہ اقتدار میں تھے۔وزےر داخلہ نے بتاےا کہ وتورپولےس تھانے کی حدود مےں ایک خاتون افسر کی گھریلو ملازمہ پر حملہ کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے،انہوںنے پولیس کمشنر کو درست رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد قصوروار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پرمےشور نے کہا کہ ریاست میں قیادت کی تبدیلی، کابینہ میں ردوبدل سمیت کسی بھی ترقی میں ہائی کمان کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے ،ہم ہائی کمان کے فیصلوں پر عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی مثالیں موجود ہیں۔بی جے پی کانگریس ہائی کمان کے کلچر پر تنقید کر رہی تھی۔ مزید کہا کہ سابق وزیر کے این راجنا کے مکان مےں وزیر اعلیٰ کا کھانے پر پہنچناکوئی خاص بات نہیں ہے، جب بھی وزےر اعلیٰ ٹمکور آتے ہیں تو راجنا کے گھر رات کا کھانا شروع سے ہی یہ روایت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہےں نہیں معلوم کہ ہائی کمان لیڈروں سے ملنے دہلی کون جاتا ہے وہ دہلی نہیں جائےں گے ۔وزےر داخلہ نے بتاےا کہ مطالبات کی بنیاد پر تمام محکموں میں بڑے پیمانے پر تبادلے ہو رہے ہیں، صرف محکمہ پولیس میں تبادلوں کےلئے کوئی وقت کی حد نہیں ہے جب بھی ضروری ہو منتقلی کی جاتی ہے، سال کے 365 دن افسران کی تبدیلی معمول کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسران کے تبادلے کو وزراءکی تبدیلی کا پیش خیمہ نہیں سمجھا جا سکتا۔انہوںنے بتاےا کہ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ وہ کابینہ میں ردوبدل کریں گے، اس لئے اس معاملے پر بیان دینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نئے لوگوں کو موقع دینے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا قیادت میں تبدیلی کی صورت میں پرمیشورکو موقع ملے گا۔ انہوں نے میڈیا کو ہدایت دی کہ وہ وزےر اعلیٰ اور وزیر سے متعلق سوالات کے علاوہ دیگر سوالات پوچھیں۔ انہوں نے آر ایس ایس پر وزیر پرینک کھرگے کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔
страхи онлайн безкоштовно документальне кіно онлайн безкоштовно
This is very interesting, You are a very skilled blogger. I have joined your feed and look forward to seeking more of your fantastic post. Also, I’ve shared your web site in my social networks!
This is very interesting, You’re an overly skilled blogger. I’ve joined your feed and look forward to searching for extra of your wonderful post. Additionally, I have shared your website in my social networks!
As a Newbie, I am constantly searching online for articles that can benefit me. Thank you
I truly appreciate this post. I?¦ve been looking everywhere for this! Thank goodness I found it on Bing. You have made my day! Thank you again
Hai semua, Anda telah melakukan kerja yang luar biasa. Saya pasti akan menyimpan ini dan kembali untuk melihat lebih banyak. Terima kasih banyak!
Hmm apakah ada orang lain yang mengalami masalah dengan foto di blog ini yang tidak mau dimuat? Saya mencoba mencari tahu apakah ini masalah di sisi saya atau blognya. Tanggapan apa pun akan sangat dihargai.
Menikmati menelusuri ini, sangat bagus, sangat menghargai.
Its wonderful as your other posts : D, thankyou for putting up. “A lost battle is a battle one thinks one has lost.” by Ferdinand Foch.