urdu news today live

کرناٹک کانگریس کے مسئلہ کو جلد ہی سلجھا لیا جائے گا
راہل گاندھی سدارامیا اور ڈی کے شیو کمار سے بات کریں گے: کھرگے
بنگلورو۔27 نومبر (سالار نیوز)کانگریس کے صدر ملیکارجن کھرگے نے جمعرات کو کہا کہ وہ کرناٹک میں بحث اور قیاس آرائیوں کا باعث بنے قیادت کے مسئلہ پر بات کرنے کےلئے نئی دہلی میں راہل گاندھی، وزیر اعلی ٰسدارامیا اور نائب وزیر اعلی ٰڈی کے شیوکمار سمیت سینئر لیڈروں کی میٹنگ طلب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ رہنما آگے بڑھنے کے راستے پر تبادلہ خیال کریں گے اور اس مسئلے کو حل کریں گے، اور اس طرح وہاں موجود الجھن کو ختم کریں گے۔2023میں سدارامیا اور شیوکمار کے درمیان اقتدار کی تقسیم کے معاہدے کے پس منظر میں20 نومبر کو کانگریس حکومت کے اپنی پانچ سالہ میعاد کی نصف مدت پر پہنچنے کے بعد ریاست میں وزیر اعلی کی تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیوں کے درمیان، حکمراں پارٹی کے اندر اقتدار کی کشمکش میں شدت آگئی ہے ۔کھرگے نے یہاں نامہ نگاروں سے کہاکہ دہلی جانے کے بعد، میں تین چار اہم لیڈروں کو فون کروں گا اور بات چیت کروں گا۔ بحث کے بعد، ہم کہیں گے کہ آگے کیسے جانا ہے؛ اس طرح کنفیوژن ختم ہو جائے گی۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وزیر اعلی اور ان کے نائب کو دہلی بلایا جائے گا، انہوں نے کہا، ہمیں یقینی طور پر ان کو بلا کر بات کرنی چاہیے، ہم انہیں بلائیں گے، ان سے بات کریں گے اور مسئلہ حل کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں سب کو بلا کر بات کروں گا۔ راہل گاندھی اس کا حصہ ہوں گے، سی ایم اور ڈپٹی سی ایم سمیت دیگر ممبران بھی۔ سب سے بات چیت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں، اے آئی سی سی کے سربراہ نے کہا، ہائی کمان کا مطلب ٹیم ہے، کوئی فرد نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ہائی کمان کی ٹیم اس معاملے پر بات چیت اور فیصلہ کرے گی۔کھرگے کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی ایم سدارامیا نے کہا کہ اگر انہیں بلایا گیا تو وہ دہلی جائیں گے۔ شیوکمار نے بھی کہا، میں اور وزیر اعلی، ہم دونوں بات کریں گے اور ہم دہلی جائیں گے، اگر ہائی کمانکہے تو ہم ضرور جائیں گے۔دریں اثنا، سرکاری ذرائع کے مطابق، سدارامیا نے یہاں اپنی رہائش گاہ پر جی پرمیشور، ستیش جارکی ہولی، ایچ سی مہادیوپا، کے وینکٹیش اور کے این راجنا سمیت اپنے قریبی سمجھے جانے والے سینئر وزرا اور قائدین کے ساتھ میٹنگ کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *