urdu news today live

وجئے پورہ–بنگلورو ٹرین سفر کم کرنے کی کوششیں تیز
ہبلیـگدگ بائی پاس روٹ پر ٹرین چلانے کا امکان
بنگلورو۔3دسمبر(سالارنیوز)ساؤتھ ویسٹرن ریلوے کے سینئر حکام نے واضح کیا ہے کہ ہبلی اور گدگ بائی پاس روٹس کے ذریعے ٹرینیں چلانے میں کوئی تکنیکی رکاوٹ نہیں، تاہم موجودہ ٹرینوں کے روٹس میں تبدیلی ممکن نہیں۔ اس کے لئے ریلوے بورڈ سے نئی ٹرینوں کی باضابطہ منظوری درکار ہوگی۔انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے وزیر ایم بی پاٹل نے چہارشنبہ کو کھنیجہ بھون میں ریلوے افسران کے ساتھ ایک اہم فالو اپ میٹنگ کی، جس میں ریاست کے لاگت کے اشتراک والے ریلوے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔وجئے پورہ–بنگلورو سفر 15 سے 10 گھنٹے تک لانے کی کوشش:میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایم بی پاٹل نے بتایا کہ وجئے پورہ سے بنگلورو تک سفر میں اس وقت 15 گھنٹے لگتے ہیں، جسے 10 گھنٹے تک لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور اب ریلوے حکام نے ہبلیـگدگ بائی پاس روٹ کی منظوری دی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔بائی پاس روٹ سے انجن تبدیل کرنے کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے ،اس وقت بنگلوروـبیجاپورہ ٹرین کو ہبلی اور گدگ اسٹیشنوں پر انجن تبدیل کرنے کے بعد چلایا جاتا ہے، جس سے سفر کا وقت بڑھ جاتا ہے۔وزیر نے کہاکہ اگر ٹرینیں براہ راست بائی پاس سے گزار دی جائیں تو سفر نہ صرف تیز ہوگا بلکہ مقامی لوگوں کے لئے بھی زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔اس روٹ پر ونڈالہ اور المٹی کے درمیان ڈبل ٹریک کا کام زیرِ التوا ہے، جو فروری 2026ء تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔اسی حصے میں دریائے کرشنا پر آدھے کلومیٹر طویل اسٹیل پل کی تعمیر جاری ہے۔ریلوے حکام نے بتایا کہ برقی ڈبل ٹریک کی تعمیر مارچ تک مکمل ہو جائے گی، جس کے بعد موجودہ ٹرینوں کی رفتار میں بھی اضافہ ہوگا۔ایم بی پاٹل نے اعلان کیا کہ ہم فوری طور پر مرکزی وزیر ریلوے اشونی وشنو اور وی سومنا کو خط لکھ کر نئی ٹرینوں کی منظوری کے لئے درخواست کریں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے نئی ٹرینوں کی ضرورت بڑھ چکی ہے اور ریاست جلد اس مطالبے کو باضابطہ طور پر پیش کرے گی۔ریاستی حکومت امید رکھتی ہے کہ بائی پاس روٹ کی منظوری اور نئے ریل منصوبوں سے شمالی کرناٹک کے سفر کو نمایاں طور پر سہل بنایا جا سکے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *