urdu news today live

اختیار کریں اور موسم میں اچانک تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کی منصوبہ بندی کریں۔
منگلورو ایرپورٹ پر کانگریس کے2دھڑے آمنے سامنے
سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار کے حق میں نعرے، قیادت کی کشمکش پھر نمایاں
بنگلورو۔3دسمبر(سالارنیوز)ریاستی کانگریس میں قیادت کی کشمکش بظاہر کم ضرور ہوئی ہے، لیکن پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔بروزچہارشنبہ منگلورو میں سیاسی منظرنامہ اس وقت غیر معمولی بن گیا جب وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے حامی کارکن منگلورو انٹرنیشنل ایرپورٹ پر ایک دوسرے کے مقابل نعرے لگاتے نظر آئے۔ ایرپورٹ پر نعرے بازی کی گئی کہ ڈی کے، ڈی کے”بمقابلہ ”سدھو،سدھو، کل وقتی وزیر اعلیٰـمنگلورو میں نارائن گرو،مہاتما گاندھی تاریخی صد سالہ پروگرام کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ سدارامیا اور اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کی آمد پر ماحول اچانک گرم ہوگیا۔کے سی وینوگوپال جیسے ہی ایرپورٹ سے باہر نکلے نائب وزیر اعلیٰ کے حامیوں نے زور دار نعرے لگائے”ڈی کے ڈی کے” ،کانگریس قائدین متھن رائے سمیت کئی کارکنوں نے بھی شیوکمار کے حق میں آواز بلند کی۔کچھ دیر بعد جب سدارامیا ایرپورٹ سے باہر آئے تو ایک اور دھڑا نعرے لگاتا نظر آیا۔”سدھو، سدھو” کل وقتی وزیر اعلیٰ۔نعرے بازی کے دوران دونوں گروپ کچھ دیر کے لئے آمنے سامنے بھی آگئے، جس سے قیادت کی کھینچا تانی ایک بار پھر نمایاں ہوگئی۔ایرپورٹ کے باہر ہی وزیر اعلیٰ نے کے سی وینوگوپال سے مختصر ملاقات کی۔ میڈیا کے سوال پر سدارامیا نے کہا وینوگوپال کے ساتھ کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔ صرف معمول کی گفتگو تھی۔سدارامیا نے منگلورو یونیورسٹی کے زیر اہتمام تاریخی پروگرام نارائن گرو۔مہاتما گاندھی ڈائیلاگ صد سالہ، سری گرو کی مہاسمدھی صد سالہ اور سرومت سمیلنا صد سالہ،کا افتتاح بھی کیا، جو کوناجے، منگلا گنگوتری میں منعقد ہوا۔اس موقع پرکے سی وینوگوپال،ڈاکٹر جی پرمیشور،لکشمی ہبالکراور دیگر اہم لیڈر موجود تھے۔اقتدارکی منتقلی کے معاملہ میں کشمکش کم نہیں ہوئی، صرف خاموش ہے۔منگلورو میں کارکنوں کی اس تقسیم نے واضح کر دیا ہے کہ قیادت کی بحث بظاہر تھم ضرور گئی ہے، مگر اندرونِ خانہ تناؤ برقرار ہے۔پارٹی کے دونوں بڑے قائدین کی موجودگی میں ہونے والی نعرے بازی نے کانگریس کے اندر موجود دھڑوں کو ایک بار پھر عوامی طور پر سامنے لا دیا ہے۔
سدارامیاکاوضاحتی بیان۔وینوگوپال سے کوئی سیاسی گفتگونہیں ہوئی
ریاستی وزیراعلیٰ سدارامیا نے واضح کیا ہے کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کے ساتھ ان کی ملاقات مکمل طور پر غیر سیاسی نوعیت کی تھی۔بروزچہارشنبہ منگلورو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وینوگوپال سے سیاسی معاملات پر کوئی بات نہیں ہوئی، ہم نے صرف معمول کی گفتگو کی۔صحافیوں نے جب نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے چہارشنبہ کو دہلی روانہ ہونے کے بارے میں سوال کیا تو وزیراعلیٰ نے اس پر بھی ردِعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیوکمار کے دہلی جانے پر کسی نے اعتراض نہیں کیا اور یہ ان کا معمول کا سیاسی شیڈول ہے۔ایک سوال کے جواب میں کہ آیا وہ خود دہلی جائیں گے، سدارامیا نے کہاکہ میں اس وقت دہلی نہیں جا رہا، دہلی کا سفر تب ہی کروں گا جب مجھے وہاں بلایا جائے گا۔سیاسی سرگرمیوں اور قیادت کے داخلی معاملات کے حوالے سے جاری چہ مگوئیوں کے درمیان وزیراعلیٰ کا یہ بیان پارٹی کے اندرونی ماحول کو پرسکون کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *