urdu news today live

ڈالر کے مقابلے روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر، سیاسی ردعمل تیز
کےاےہ بھی وزےراعظم مودی کاماسٹراسٹروک ہے؟ پرےنک کھرگے
بنگلورو۔4دسمبر(سالارنےوز) امریکی ڈالر کے مقابلے بھارتی روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ 4 دسمبر کو روپے میں 28 پیسے کی مزید کمی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کی قدر 90.43 روپے فی ڈالر تک پہنچ گئی ، جو تاریخ کی کم ترین سطح ہے۔ روپے کی اس کمزوری نے معیشت اور سیاست، دونوں محاذوں پر ہلچل مچا دی ہے۔معاشی ماہرین روپے کی گراوٹ کا سبب امریکی ڈالر کی بڑھتی مانگ، درآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کے کم ہوتے رجحان، امریکہ۔بھارت تجارتی غیر یقینی صورتحال اور مالیاتی خسارے کو قرار دے رہے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر ریزرو بینک آف انڈیا(آربی آئی) نے فوری مداخلت نہ کی تو روپے کی قدر مزید گر سکتی ہے۔
کانگریس کا مرکز پر طنز:رےاستی آئی ٹی بی ٹی اور دیہی ترقیات کے وزیر پرینک کھرگے نے روپے کی گراوٹ پر بی جے پی اور وزیر اعظم مودی پر سخت طنز کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھاکہ ڈالر کے مقابلے روپیہ ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے،کیا بی جے پی اسے بھی مودی جی کا ’ماسٹر اسٹروک‘ کہے گی؟نہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ 5 سال میں 2 لاکھ کمپنیاں بند ہوئیں،آئی ایم ایف نے بھارت کے جی ڈی پی کو C گریڈ دیا،بھارت کا پاسپورٹ عالمی انڈیکس میں نیچے گیا ہے،حکومت کے پاس ملازمتیں کھونے والوں کے لیے کوئی منصوبہ نہیں۔پرینک کھرگے کے ٹویٹ پر ردعمل میں ایک صارف نے لکھاکہ بدعنوانی نے مقامی اشیاءکی قیمتیں بڑھا دی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں، برآمدات متاثر ہیں اور مالیاتی خسارہ بڑھ رہا ہے ۔ اسی لئے روپیہ گر رہا ہے۔ایک اور ردعمل میں کہا گیاکہ ڈالر غریبوں کو کھانا نہیں کھلا رہا، جی ڈی پی بھی نہیں،کرناٹک میں طلبہ احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت کے پاس ان کے لئے نوکریاں نہیں۔رےاستی سماجی بہبود کے وزیر ڈاکٹر ایچ سی مہادیوپا نے کہا کہ روپے کی گراوٹ مضبوط معیشت کی نشانی نہیں۔ اگر آر بی آئی نے قدم نہ اٹھایا تو مزید گراوٹ یقینی ہے۔وزیر صحت دنیش گنڈو راو¿ نے بھی بی جے پی کو یاد دلایاکہ آج ایک ڈالر 90 روپے کا ہو گیا ہے۔ 11 سال پہلے بی جے پی لیڈر کہتے تھے کہ مودی آئے تو 1 روپیہ 50 ڈالر ہوگا۔ وہ لیڈر اب کہاں ہیں؟معاشی ماہرین کے مطابق روپیہ کمزور ہونے کے اہم اثرات یہ ہوں گے کہ درآمدات مہنگی ہوں گی (پٹرول، گیس، الیکٹرانکس وغیرہ)مہنگائی میں اضافہ،کاروباروں پر دباو¿،تجارتی خسارے میں اضافہ سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوگا۔حکومت کی جانب سے اس پر تاحال کوئی باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین اس صورتحال کو تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *