urdu news today live

بنگلور۔25مارچ (سالارنےوز)نائب وزےراعلیٰ ڈی کے شےوکمارنے کہاکہ مےکے داٹو معاملہ مےں ہمیں انصاف حاصل کرنے کا یقین ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر دورائی مروگن کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا کہ مےکے داٹومنصوبہ پرعمل آوری کاموقع نہےں دےاجائے گا ۔اس پرڈی کے شےوکمارنے کہاکہ ہمارا پانی ہمارا حق ہے۔ انہوںنے خوداپنا سیاسی موقف اختیار کیا ہواہے۔ جب جے اےچ پاٹل وزیر اعلیٰ تھے تو وہاں جاکر ا س بارے مےں بات چےت کےے تھے۔اس سلسلہ مےں ہم عدالت سے رجوع ہوئے ہےں، ہمیں اس بارے مےں انصاف ملنے کا یقین ہے۔مےکے داٹو منصوبہ کے بارے میں عدالت کافےصلہ آنے تک انتظارکےاجائے،عدالت مےں ہم اپناوہ اپنامدعاپےش کرےں گے۔ڈی پی آر پیش کیا گیا ہے۔ ہم اس اسکیم کو نافذ کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ ہم نے مرکزی حکومت کی بھی تجویز پیش کی ہے اور عدالت میں بھی لڑ رہے ہیں ۔تمل ناڈو کے وزےراعلیٰ آپ کے دوست ہےں ان سے بات چےت کرکے اس منصوبہ کے لئے انہےں آمادہ کرلےں، بی جے پی کے اس مطالبہ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو نے اپنا سیاسی موقف اختیار کیا ہے۔ دیو ے گوڈا اور کمارسوامی نے ےقےن دہانی کروائی تھی کہ ہرصورت مےں اس کی منظوری لےں گے ۔ وہ کیوں انہےں منوانہےں سکے؟ شےوکمارنے کہاکہ سیاست میں بہت سارے دباو¿ ہوتے ہیں۔ اس منصوبہ سے کرناٹک سے زےادہ تمل ناڈوکوفائدہ ہونے والاہے ۔کرشناندی کے پانی کے معاملہ مےں آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ سے گفتگو کرناہے ،مےٹنگ طے ہوتے ہی اس بارے مےں بات کی جائے گی۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا بی جے پی آئینی تبدیلی کے بارے میں بےان دےنے پر احتجاج کر رہی ہے ؟ اس پرجوب دےتے ہوئے ڈی کے شےوکمارنے کہاکہ مےرسرخراب نہےں ہواکہ مےں اس قسم کابےان دوں۔مےں نے انٹرےومےں سچائی پرمبنی باتےں کی ہےں،مےرے سےاسی موقف کودےکھ کربی جے پی والے برداشت نہےں کرپائے ہےں۔ میں نے کہےں نہےں کہا ہے کہ آئین کو تبدیل کردیں گے۔ اگر مےں نے آئین کو تبدیل کرنے کی بات کی ہے تو میں سیاست سے سبکدوش ہوجاو¿ں گا۔آئےن کوہم نے لاےاہے ،ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہےں۔بی جے پی والے اپنی کوتائےا ںچھپانے کے لےے ہم پرالزام تراشی کررہے ہےں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا دہلی کے رہنماو¿ں نے آپ سے اس مسئلہ کو واضح کرنے کے لئے کہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے مجھ سے انہوں نے وضاحت طلب کی تھی تومےںنے انہےں رےکارڈدےکھنے کے لےے کہاتھا۔ انہوں نے مےرے بےان دےکھاہوگااورسمجھ گئے ہوں گے کہ مےں نے اےسی کوئی بات نہےں کی ۔

10 thoughts on “

  1. I would also love to add if you do not actually have an insurance policy or maybe you do not belong to any group insurance, you may well really benefit from seeking assistance from a health broker. Self-employed or people who have medical conditions normally seek the help of one health insurance agent. Thanks for your post.

  2. Choosing the best immigration solicitor in London is crucial to handling your immigration case. These solicitors offer years of practical experience with a client-focused manner. With services covering citizenship applications, they cater to a broad legal situations. Many operate on a fixed fee basis, so you’ll always know what to expect.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *