urdu news today live

وقف قانون پر سپرےم کورٹ کی عبوری روک خوش آئند: منصور علی خان
بنگلورو۔17 اپریل (سالار نیوز)مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے متنازعہ وقف قانون پر عمل کرنے سے سپریم کور ٹ کی طرف سے اگلی سماعت تک لگائی گئی عبوری روک کا اے آئی سی سی سکریٹری اور اس کیس میں سپریم کورٹ کے عرضی گزاروں میں سے ایک منصور علی خان نے خیرمقدم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوران سماعت مرکزی حکومت کی طرف سے پےروی کرتے ہوئے اڈیشنل سالےسٹر جنرل تشار مہتہ کی طرف سے ےہ یقین دہانی کہ سماعت مکمل ہونے تک وقف کونسل یا وقف بورڈ میں کسی غیر مسلم کا تقرر نہیں کیا جائے گا اور وقف بائی یوزر کے تحت آنے والے کسی بھی املاک کو وقف سے ڈی نو ٹیفائی نہیں کیا جائے گا خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف قانو ن میں جو ترمیمات لائی گئی ہیں ان میں سے ےہ دونکات کافی اہمیت کے حامل تھے اور ان پرہی مسلمانوں کو بہت زیادہ اعتراضات تھے۔ اب عدالت عظمی کی طرف سے اس معاملہ میں جو قدم اٹھایا گیا ہے وہ راحت بخش ہیں ۔ انہوں نے امید کی کہ مرکزی حکو مت نے آئین کو نظر انداز کرتے ہوئے جس طرح کا قانون لانے کی کوشش کی ہے اس کو عدالت عظمی نے آئین کی محافظ بن کر روک لگائی ہے۔ مرکزی حکومت کی طر ف سے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی آواز کو کچل کر آئینی تقاضوں کی پامالی کرتے ہوئے قانون لانے کی کوشش کی تھی عدالت نے اس کوشش پر عبوری روک لگا کر انصاف پر اعتماد کو اور مضبوط کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے وقف قانون میں ترمیم لانے کا فیصلہ اپنے طور پر کسی سے مشورے کے بغیر لیا تھا۔ چند مفادات کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے کیاتھا۔ لیکن عدالت نے انصاف کے پرچم کو بلند رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کے ان ارادوں پر عارضی ہی سہی روک لگائی ہے۔ منصور علی خان نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں وقف قانون کی قابل اعتراض شقو ں پر مستقل روک لگے گی اور ملک میں اوقاف کے تحفظ کا بول بالا ہو گا۔