urdu news today live

جھولاچھاپ ڈاکٹروںسے چلائے جارہے کلےنکس پرعدالت برہم
حکومت کی گوشمالی کرتے ہوئے جعلی کلنےک فوری بندکرنے ہائی کورٹ کی ہداےت
بنگلور۔17اپرےل(سالارنےوز)ریاست میں طبی ڈگری نہ رکھنے والے ڈاکٹروں اورجعلی کلےنکس کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان جعلی ڈاکٹروں اورنقلی کلےنکس کے خلاف فوری کارروائی کرنے کے لیے کرناٹک ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے۔ جسٹس ایم ناگ پرسنا پرمشتمل آئےنی بنچ نے یہ حکم دیاہے،جج نے کہاکہ مرلی دھرسوامی نامی شخص لکشمی نامی کلےنک چلاتاہے،وہی اس کااونر،اس کلےنک کے وہی ملازم ،کلےنک مےں کوئی دوسراشخص ملازم نہےں ،تمام کام اےک آدمی کرتاہے۔ دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد میڈیکل سروس میں ڈاکٹر رہا اے اے مرلی دھر سوامی نے کلینک کی رجسٹریشن کے لیے درخواست دی تھی۔ تاہم عدالت نے درخواست پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکومت کو ڈاکٹرکے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے،خوداعتراف کےاہے کہ انہوںنے آےوروےد،الوپےتھی، ےاےونانی طبی طرےقہ کار مےں سے کسی طرےقہ کی پرےکٹس نہےں کی ہے۔درخواست گزار مرلی دھر سوامی کے کسی بھی حل کی عدالت کی طرف سے شائع کرنے کی درخواست نامنظور کی گئی ہے۔ درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کے جج نے شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا،کہا کہ ایسے جعلی ڈاکٹر دیہات میں کلینک کھولتے ہیں۔ دیہی علاقے کے لوگ سادہ ہیں، اور ان کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال کھول کر لوگوں کی جانوں کے لیے خطرہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ایسے کئی معاملات سامنے آئے ہےں ،جن مےں کئی جانےں تک گئی ہےں۔ اس قسم کے جعلی کلینک ریاست میں زیادہ عام ہو رہے ہیں۔ ان کے خلاف حکومت کی طرف سے کسی بھی کارروائی نہ کرنا حیرت کی بات ہے۔ جسٹس ناگ پرسنانے حکومت کوحکم دےاہے بہرحال ریاستی حکومت کو فوری طور پر قدم اٹھانا چاہیے۔کوئی رجسٹریشن نہ رکھنے والے کلینک کو شناخت کر کے بند کرنا چاہیے، حکومت فوری طور پر کارروائی کرے۔ درخواست گزار مرلی دھر سوامی کی جانب سے پوچھے گئے اےک معاملہ مےں کسی بھی کی درخواست نامنظور کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *