urdu news today live

جی ایس ٹی کو آسان بنانے کے نظام سے ریاستوں کو
85ہزارکروڑ سے 2.5 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوگا:کرشنابائرے گوڈا
بنگلور۔29اگست (سالارنےوز)رےاستی وزےربرائے محصولات کرشنابائرے گوڈانے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت کے ذریعہ تجویز کردہ جی ایس ٹی کو آسان بنانے کے نظام سے ریاستوں کو 85,000 کروڑ روپے سے 2.5 لاکھ کروڑ روپے کی آمدنی کا نقصان ہوگا، اور جی ایس ٹی کونسل کو جی ایس ٹی کے مستحکم ہونے تک معاوضہ فراہم کرنا چاہئے۔جی ایس ٹی کو آسان بنانے اور ریاست کی خود مختاری کے سلسلے میں جمعہ کو دہلی کے کرناٹک بھون میں آٹھ ہم خیال ریاستوں کے وزراءاور عہدیداروں کی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر کرشنا بائرے گوڈا نے کہاکہ ہم جی ایس ٹی کونسل کی طرف سے تجویز کردہ جی ایس ٹی ٹیکس آسان بنانے کے نظام کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم، اس نظام کو ریاستوں کے ٹیکس ریونیو کی حفاظت کرنی چاہیے اور اس کا پورا فائدہ صرف چند کمپنیوں کو نہیں بلکہ رےاست کے عام لوگوں کو ملنا چاہیے۔مرکزی حکومت نے ابھی تک ریاستی حکومتوں کو مجوزہ جی ایس ٹی آسان بنانے کی وجہ سے تخمینی محصولات کے نقصان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ کچھ سرکاری اور نجی تنظیموں نے اندازہ لگایا ہے کہ ریاستوں کو 85,000 کروڑ روپے سے 2.5 لاکھ کروڑ روپے کا جزوی نقصان ہو سکتا ہے۔ اگر ریاستی حکومتوں کو محصول کا نقصان ہوتا ہے تو مرکزی حکومت کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس لیئے مرکزی حکومت کو جی ایس ٹی کے مستحکم ہونے تک اپنے خزانے سے ایک روپیہ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بجائے، جی ایس ٹی کونسل کو اپنے دائرہ اختیار میں ہر ریاست کو معاوضہ فراہم کرنا چاہئے۔مرکزی حکومت کی آمدنی میں جی ایس ٹی کا حصہ صرف 28 فیصد ہے۔ باقی 72 فیصد ریونیو مرکز کو مختلف ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔ براہ راست ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹم، ڈیویڈنڈ اور مختلف سیس مرکز کی آمدنی کے ذرائع ہیں۔ مرکزی حکومت سیس کے ذریعے اپنی آمدنی کا 17 سے 20 فیصد کماتی ہے۔ مرکزی حکومت ریاستوں کے ساتھ سیس ریونیو کا ایک روپیہ بھی تقسےم نہیں کرتی ہے۔ تاہم ریاست کی آمدنی میں جی ایس ٹی کا حصہ 50 فیصد ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیاکہ اس طرح ریاستیں ترقی اور محصول کی وصولی کے لئے جی ایس ٹی پر انحصار کر رہی ہیں۔ ایسی صورت حال میں اگر ریاستوں کی آمدنی کا 20فےصد کا نقصان ہو جاتا ہے، تو ریاستوں کی مالی خودمختاری پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔جب جی ایس ٹی متعارف کرایا گیا تو کہا گیا کہ اس نئے ٹیکس نظام سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اگر یہ سچ ہوتا تو ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی آمدنی دوگنی ہو جاتی۔ تاہم گزشتہ 7تا8 سال کے تجربے نے اس بیان کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ تمام ریاستوں کی خالص آمدنی ہر سال نمایاں طور پر کم ہو رہی ہے۔ جی ایس ٹی سے پہلے، جب وےاٹ کے تحت ٹیکس جمع کئے جاتے تھے، ملک کی جی ڈی پی میں وےاٹ کا حصہ 6.1 فیصد تھا۔ تاہم اب جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد یہ شرح 6.1 فیصد تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ فی الحال جی ڈی پی میں جی ایس ٹی کا حصہ صرف 5.9 فیصد ہے۔ مجموعی طور پر یہ واضح ہے کہ ریاست اور مرکز جی ایس ٹی کی وجہ سے آمدنی کھو رہے ہیں۔ اس میٹنگ میں تلنگانہ کے ریاستی وزیر خزانہ تھنگم تھینراسو، ہماچل پردیش کے وزیر خزانہ راجیش دھرمانی، جھارکھنڈ کے ریاستی وزیر خزانہ رادھا کرشنا کشور، پنجاب کے وزیر خزانہ ہرپال سنگھ چیمہ، کیرلا کے ریاستی وزیر خزانہ بال گوپال، تلنگانہ کے ریاستی وزیر خزانہ ملو بھٹی وکرمارکا اور مغربی بنگال کے زونل افسر اجین دتہ نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *