بہارکے نتائج نے کرناٹک مےں قےادت کی لڑائی کووقتی طورپرٹھنڈاکردےاہے
بےلگاوی لےجس لےچر اجلاس کے بعدکابےنہ مےں ردوبدل کاامکان
بنگلورو۔15نومبر(سالارنےوز)بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے پورے ملک کی سیاسی فضا میں ہلچل ضرور پیدا کی، لیکن کرناٹک کی سیاست پر اس کے کوئی فوری اثرات دکھائی نہیں دیتے۔ ریاست میں کانگریس کی قیادت اور حکومت پہلے کی طرح مضبوط دکھائی دے رہی ہے، اور پارٹی ہائی کمان کی موجودہ مصروفیات کے سبب وزیر اعلیٰ سدارامیاہ کے کیمپ میں خاصی راحت محسوس کی جا رہی ہے۔دیگر ریاستوں کے نتائج کا حوالہ دے کر کرناٹک میں تبدیلی کی امیدیں باندھنے والوں کے لیے بہار کا فیصلہ کسی اطمینان کا باعث نہیں بنا۔ کانگریس ہائی کمان جو بہار کے غیر متوقع نتائج سے خود چکرا گئی ہے، فوری طور پر کرناٹک کی طرف توجہ دینے کے موڈ میں نہیں، جس کا سیدھا فائدہ سدارامیاہ کو پہنچ رہا ہے۔پارٹی کے اندرونی ذرائع بھی کہہ رہے ہیں کہ ”اس وقت کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی یا کسی بڑے قدم کی نہ کوئی گنجائش ہے، نہ ارادہ۔بہار میں ووٹنگ مکمل ہونے سے قبل یہ خبریں زوروں پر تھیں کہ کرناٹک میں جلد ہی کابینہ کی ازسر نو تشکیل ہوگی اور ممکن ہے کہ قیادت کی تبدیلی پر بھی بات آگے بڑھے۔نائب وزےراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے حامی تو اپنے لیڈر کے ممکنہ ’تخت نشینی‘ کے خواب بھی دیکھ رہے تھے۔لیکن راہل گاندھی کے اچانک غیر ملکی دورے نے ساری چہ مگوئیوں پر بریک لگا دیا۔ واضح ہو گیا کہ ہائی کمان کی عدم موجودگی میں نہ زمینی فیصلے ہوں گے نہ اقتدار کی تقسیم پر کوئی بات آگے بڑھے گی۔بہار میں مہاگٹھ بندھن کی ناکامی سے کانگریس کی ترجیحات بدل گئےں۔مہاگٹھ بندھن کی شکست، اور خاص طور پر کانگریس کی کمزور کارکردگی نے ہائی کمان کو اپنی توجہ مرکز میں پارٹی کے احیاءپر مرکوز کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ایسے میں کرناٹک میں کسی بڑی ’سیاسی آپرےشن‘ کے امکانات انتہائی کم ہیں۔پارٹی فی الحال موجودہ قیادت سے ہی کام چلانے کو موزوں سمجھ رہی ہے۔اس درمےان او بی سی سیاست میں سدارامیا کا قدمزےد بلند ہوگےا ہے۔ کرناٹک، تلنگانہ اور ہماچل میں کانگریس کی حکومتیں ہیں، مگر ان میں سب سے مضبوط قلعہ کرناٹک ہے۔مزید یہ کہ پارٹی اس وقت ملک گیر سطح پر او بی سی سیاست کو نئی شکل دینے میں مصروف ہے، اور سدارامیا کو ایک بااثر او بی سی چہرے کے طور پر ابھارنے کی کوشش جاری ہے۔انہیں آل انڈیا او بی سی کمیٹی میں بھی اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔ایسے وقت میں ریاست میں ان کی سیاسی گرفت کو کمزور کرنا ہائی کمان کے لیے ممکن بھی نہیں اور مناسب بھی نہیں۔
بلگاوی اجلاس کے بعد ممکنہ سرگرمیاں:دسمبر میں بلگاوی اسمبلی سیشن ہوگا، پھر بجٹ کی تیاریاں شروع ہو جائیں گی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کابینہ میں کوئی ردّ و بدل ہوا تو وہ بھی انہی مراحل کے بعد ہی ممکن ہوگا، ورنہ نہیں۔ڈی کے شیوکمار پچھلے کچھ مہینوں سے انتہائی محتاط حکمت عملی کے ساتھ خاموشی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔وہ نہ کوئی جارحانہ بیان دے رہے ہیں، نہ کسی قسم کی اندرونی ٹکراو¿ کو ہوا دے رہے ہیں۔مبصرین کے مطابق موجودہ سیاسی فضا میں ان کا یہ ”محفوظ کھیل“ ان کے حق میں بہتر ہے۔مجموعی طور پر بہار کے نتائج نے کرناٹک کانگریس میں غیر یقینی کم اور استحکام زیادہ پیدا کیا ہے۔ موجودہ حالات میں ریاست میں قیادت کی تبدیلی یا بڑے سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
اپنے دروازے پر نیوز پیپر حاصل کریں
SALAR URDU DAILY
GET NEWSPAPER AT YOUR DOOR STEP