urdu news today live

لوک آیوکتہ کے چھاپوں کے بعد محکمہ تعلیمات میں متعدد گھپلوں کی انکشاف
سرکاری اسکولوں کو فراہم کئے گئے الیکٹرانک آلات میں بھاری ہیرا پھیری کا الزام
بنگلورو۔6 دسمبر (سالار نیوز)ریاستی محکمہ اسکولی تعلیمات وخواندگی کے مختلف دفاتر پر لوک آیوکتہ کے چھاپہ کے بعد محکمہ میں جاری متعدد بے قاعدگیوں کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری اسکولوں کو الیکٹرانک آلات کی فراہمی میں ہر اسکول میں 20تا30ہزار روپے کی ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف بنگلورو نارتھ ضلع کے ڈپٹی ڈائرکٹر آف پبلک انسٹرکشن (ڈی ڈی پی آئی) کی حدود میں 1483اسکولس آتے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ بنگلورو سمیت ریاست کے 11سے زیادہ اضلاع میں آنے والے اسکولوں کیلئے ٹیکنیکل کلیئرنس کمیٹی کی منظوری کے بعد لیپ ٹاپ،ڈیسک ٹاپ،سمیت دیگرالیکٹرانک آلات کی خریداری کی گئی ہے۔ اس خریداری میں کے ٹی ٹی پی قانون کو پامال کئے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جانچ کے دوران یہ پایا گیا ہے کہ آلات کی خریداری پر ہونے والی بلنگ میں ہر بل پر 30ّّسے40ہزار روپے کی اضافی رقم لی گئی ہے۔ لوک آیوکتہ کے افسروں نے بتایا کہ 14ڈی ڈی پی آئیز کی حدود میں آنے والے 11اضلاع میں آنے والے دس ہزار سے زیادہ اسکولس محکمہ کے ایک جائنٹ ڈائرکٹر کے ماتحت آتے ہیں ۔ افسروں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی ٹیکنیکل کلیئرنس کمیٹی کی طرف سے تین سال کے حساب کتاب کی پابندی لگائی گئی ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ اسکولوں کو جو الیکٹرانک آلات فراہم کئے گئے ہیں ان کی کوئی گیارنٹی نہیں دی گئی ہے۔ لوک آیوکتہ کے اخباری بیان کے مطابق بنگلورو نارتھ کے ڈی ڈی پی آئی کی طرف سے اپریل 2025کے دوران ای ٹینڈر طلب کیا گیا ۔ اس ٹینڈر کے تحت سیمسنگ اسمارٹ بورڈ، لینووولیپ ٹاپ،زیبرانکس ایل ای ڈیپروجیکٹر،بیٹری سمیت مائکروٹیک یو پی ایس،لینو وو آل ان ون پی سی کی فراہمی کیلئے قیمتوں کا تعین کیا گیا تھا ۔ بنگلور ضلع پنچایت کے چیف اگزی کیٹو آفیسر نے اس کو منظوری بھی دی ہے۔
لو ک آیوکتہ کے افسروں نے بتایا کہ انہوں نے ان اسکولوں کو فراہم کئے گئے الیکٹرانک آلات کی قیمتو ں کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ ہر کمپیوٹر پر 10ہزار روپے،یو پی ایس پر 30ہزار تا 40ہزار روپے اور ایل ای ڈی سمارٹ بورڈ پر 15ہزار روپے کی اضافی رقم ادا کی گئی ہے۔اس کے علاوہ جو آلات سپلائی کئے گئے ہیں وہ گھٹیا معیار کے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ ڈی ڈی پی آئی کو اسکولوں کا دور ہ کر کے فراہم کئے گئے آلات اور ان کے معیار کا معائنہ کرنا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اس سے صاف ظاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *