بہار اسمبلی انتخابات کا نتیجہ جمہوریت کے ساتھ بھدا مذاق
ابھی سے ہوش میں نہ آئے تو کرناٹک میں بھی ےہی گندہ کھےل ہو سکتا ہے: منصور علی خان
بنگلورو۔16 نومبر (سالار نیوز) بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی جیت اور بی جے پی کے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرنے کو اے آئی سی سی سکریٹری منصور علی خان نے جمہوریت کے ساتھ مذاق سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے بہار اسمبلی انتخابی نتائج کے اعداد وشمار کی بنیاد پر کہا ہے کہ اس ریاست میں الیکشن کمیشن نے جب سے ایس آئی آر کی شروعات کی تھی اسی وقت بی جے پی اور این ڈی اے کی جیت کا محاذ تیار ہو گیا۔ اب انتخابی نتائج کا جائزہ لےنے کے بعد ےہ سامنے آچکا ہے کہ بی جے پی اور جے ڈی یو نے جو 202سیٹیں حاصل کی ہیں ان میں سے 128سیٹوں پر ان دونوں کی جیت انہیں ووٹوں کی بدولت ہوئی ہے جو ایس آئی آر کے دوران فہرست سے نکالے گئے۔ منصورعلی خان نے ان ووٹوں کے اعداد وشمار سوشیل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ابھی سے اگر بی جے پی کو روکا نہ گیا تو آنے والے دنوں میں وہ ملک سے جمہوریت کا نام ونشان مٹا کر رکھ دے گی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس رہنما راہل گاندھی کی طرف سے روز اول سے ہی متنبہ کیا جاتا رہا کہ بی جے پی الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے مہاراشٹرا اور ہریانہ کی مانند بہار کے الیکشن کو بھی چرا لے گی اور بالکل ایسا ہی ہوا ۔ ےہاں بی جے پی نے ووٹوں کو چرایا نہیں بلکہ کھلے عام لوٹا ہے۔ اس لوٹ پر الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا رہا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے بعد اب مغربی بنگال، کرناٹک اور دیگر ریاستوں میں بی جے پی انہیں حربوں کو آزمائے گی اس کےلئے ابھی سے ان ریاستوں میں ان سیاسی جماعتوں اور عوام کو ہوشیار ہو جانا چاہئے جوےہ چاہتی ہیں کہ اس ملک میں جمہوریت باقی رہے۔ووٹر لسٹوں پر جامع نظر ثانی کے نام پر چن چن کر الیکشن کمیشن ایسے ووٹروں کے نامو ں کو حذف کرنے میں لگا ہے جو انتخابات کے مرحلہ میں بی جے پی کے خلاف جا سکتے ہیں۔ اس طرےقہ سے ملک کے کمزور طبقات کی سیاسی آزادی اور ان کی آواز کو چھین لےنے کی گھناو¿نی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کرناٹک میں بھی ایس آئی آر کی بات کی جا رہی ہے اور اس کےلئے الےکشن کمیشن کی طرف سے تیار بھی شروع کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں ایس آئی آ ر کرتے وقت الیکشن کمیشن نے وعدہ کیا تھاکہ صرف ان لوگوں کے ووٹ کاٹے جائیں گے جو غیر قانونی درانداز ہیں لیکن ایس آئی آر ختم ہو نے کے بعد کوئی غیر قانونی دراندازنہیں ملا لےکن 65لاکھ لوگوں کے ناموں کو ووٹر لسٹ سے کاٹ دیا گیا ےہ وہ لوگ تھے جو کمزور اور مظلوم طبقات سے تعلق رکھتے تھے۔ اب انتخابی نتائج کا جائزہ لےنے کے بعد حلقہ در حلقہ ےہ بات سامنے آئی ہے کہ این ڈی اے بالخصوص بی جے پی کے امیدواروں کی جیت کا فرق تقریباً تقریباً اتنے کی ووٹوں کی ہے جتنے ووٹ ایس آئی آر کے ذریعے کاٹے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ےہ سب اتفاق نہیں ہو سکتا بلکہ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کی منظم سازش کا حصہ ہے۔
اپنے دروازے پر نیوز پیپر حاصل کریں
SALAR URDU DAILY
GET NEWSPAPER AT YOUR DOOR STEP
I have been exploring for a little for any high quality articles or blog posts in this kind of house . Exploring in Yahoo I at last stumbled upon this web site. Studying this information So i?¦m satisfied to express that I have an incredibly excellent uncanny feeling I came upon exactly what I needed. I such a lot without a doubt will make sure to don?¦t overlook this site and give it a glance regularly.