urdu news today live

اسٹارٹ اپ پالےسی ٹکنالوجی کے شعبے کی ترقی کےلئے پر عزم ،25ہزار ملازمتوں کے مواقع ہوں گے
بنگلورو ٹےک سمٹ-2025ءکی افتتاحی تقرےب سے وزےر اعلیٰ کا خطاب
بنگلورو۔18نومبر (قادری سےنئر رپورٹر )وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ حکومت نے ٹیکنالوجی اور اسپارٹ اپ پالےسی جاری کی ہے جو ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی کےلئے پرعزم ہیں۔شہر کے بنگلور انٹرنیشنل اےگزےبشن سنٹر (بی آئی ای سی) مےں سہ روزہ بنگلورو ٹیکنالوجی سمٹ کے 28ویں ایڈیشن کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سدا رامےا نے ےہ بات کہی اورکہا کہ ڈیٹا پر مبنی، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کےلئے تیار کرناٹک ٹیکنالوجی پالیسی کے ساتھ حکومت کا مقصد ریاست کو جدت اور گہری ٹیکنالوجی کےلئے ایک عالمی منزل میں تبدیل کرنا ہے۔وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ نئی اسٹارٹ اپ پالیسی کی وجہ سے اگلے پانچ سالوں میں 25ہزار نئی ملازمتوں کے مواقع ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ تیزی سے ترقی پذیر عالمی ٹیکنالوجی کے منظر نامے میں کرناٹک کی مسابقت میں اضافہ کرے گا۔ تقریباً تین دہائیوں سے بنگلور ٹیک سمٹ دنیا کے لئے ایک روشنی کی حیثیت رکھتا ہے، ایک ایسی جگہ جہاں خیالات اور ٹیکنالوجیز آپس میں ملتے ہیں۔ شراکت داریاں بنائی جا رہی ہیں، یہ سمجھنے میں مدد کرتی ہیں کہ دنیا کس طرف جا رہی ہے۔ وزےر اعلیٰ نے کہا کہ ہندوستان کے کل اسٹارٹ اپس میں اس کا حصہ 47فےصد ہے ، آئی ٹی کی برآمدات میں کرناٹک کا حصہ 42 فیصد ہے جو اس کی قیمت 3.2 لاکھ کروڑ روپئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلور سیمی کنڈکٹرز، ایرو اسپیس، دفاع، بائیوٹیک، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ، اینیمیشن اور گیمنگ اور ڈیپ ٹیک کا ایک بڑا مرکز ہے۔سدارامےا نے کہا کہ کرناٹک نے ہمیشہ پالیسی اختراع میں ہندوستان کی قیادت کی ہے،ریاست 1997 میں ہندوستان کی پہلی آئی ٹی پالیسی بنا کر سب سے آگے رہے ہیں۔ آج کے سمٹ میں ہم کرناٹک انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیسی 2025-30ءاسپیس ٹیک پالیسی 2025-30ءاور اسٹارٹ اپ پالیسی 2025-30ءکی نقاب کشائی کر رہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ڈیٹا پر مبنی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیزکرناٹک کی نئی آئی ٹی پالیسی کا مقصد ریاست کو جدت اور گہرے تکنیکی علم کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد 2034ءتک قومی مارکیٹ کا 50فےصد حصہ اور عالمی سطح پر 5فےصد حصہ کے ساتھ ہندوستان کا سب سے بڑا خلائی ٹیکنالوجی کا مرکز بننا ہے۔مزید کہا کہ مضبوط ٹیکنالوجی کے مرکز کے طورپر کرناٹک کا ابھر نا اتفاقی نہےں ہے بلکہ دور اندےشی پالےسےوں اور ہر مرحلہ مےں گہری سوچ اور ایک ماحولیاتی نظام کا نتیجہ ہے جو ہر سطح پر تخلیقی صلاحیتوں اور عمدگی کو پروان چڑھاتا ہے۔وزےر اعلیٰ نے کہا کہ بنگلورو ٹیک سمٹ 2025ءایک تقریب سے بڑھ کر ہے، یہ خیالات، سرمایہ کاری، اختراعات اور تبدیلی کےلئے ایک عالمی پلیٹ فارم ہے۔ انہوںنے رائے دی کہ سہ روزہ سمٹ ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔سدارامیا نے کہا دور اندیشی ناقابل تصور کی پیمائش کرنا اور دنیا کو آگے بڑھانا ہمارے اجتماعی عزائم کے جوہر کو پکڑتا ہے۔انہوںنے کہا کہ موضوع کے تحت ےہ ٹیک سمٹ 9 اہم راستوں کو اکٹھا کرے گا جو عالمی اختراع کی سرحدوں کی نمائندگی کرتے ہیں، ان راستوں پر 600 سے زےادہ عالمی مقررین، 1,200 سے زےادہ نمائش کنندگان، 60 سے زائد ممالک کے مندوبےن اور ہزاروں اختراع کار اس بات کی وضاحت کریں گے کہ ٹیکنالوجی کی اگلی دہائی کیسی ہوگی ،نہ صرف کرناٹک یا ہندوستان بلکہ پوری دنیاکےلئے۔انہوںنے کہا کہ سمٹ خواب دیکھنے والوں، تخلیق کاروں اور تبدیلی سازوں کا ایک غیر معمولی اجتماع ہے جو ایک ا سمارٹ، جامع اور تبدیلی لانے والے مستقبل کی تعمیرکےلئے یہاں موجود ہیں۔ انہوںنے کہا کہ تقریباً تین دہائیوں سے بنگلور وٹیک سمٹ دنیا کےلئے اےک مشعل کے مانند ہے ےہاں پر خیالات اور ٹیکنالوجیز آپس میں ملتی ہیں، شراکت داریاں بنتی ہیں او رمستقبل کی راہ ہموار ہو تی ہے ۔انہوںنے کہا کہ ےہ سمٹ بھی ایک تبدیلی کا قدم ہے جو اکیڈمی کو صنعت ،اسٹارٹ اپ کو سرمایہ کاروں اور سرحدی پالیسی سازوں سے جوڑتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ عالمی بازوں کو کرناٹک کے دانشورانہ اور کاروباری صلاحیتوں کے گہرے ذخائر سے جوڑتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ”مستقبل کو حاصل کر نے کے اس یقین کی تصدیق کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کو سماجی بھلائی، معاشی انصاف، پائیدار ترقی، سب کےلئے شمولیت اور خوشحالی کو آگے بڑھانا چاہئے، جیسا کہ ہم مصنوعی ذہانت، کوانٹم، بائیوٹیک، خلائی اور سبز ٹیکنالوجیز سے چلنے والے اگلے ڈ جےٹل انقلاب کے سامنے کھڑے ہیں۔وزےر اعلیٰ نے کہا کہ کرناٹک دنیا کو ایک جرا¿ت مندانہ، انسانی اور تبدیلی آمیز مستقبل کی تخلیق کےلئے ایک دعوت ہے۔سدارامےا نے کہا کہ بنگلورو ٹیک سمٹ جدت، ہنر، تحقیق اور تکنیکی قیادت کے ایک بہت بڑے عالمی مرکز کے طور پر کھڑا ہے۔کرناٹک دنیا کے سب سے مضبوط علمی ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک سے چلتا ہے، ہمارے پاس 85 یونیورسٹیاں، 243 انجینئرنگ کالج اور تقریباً 1,800 آئی ٹی آئی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ریاست کی افرادی قوت میں بے روزگاری کی کم شرح 4.3فےصد ہے جو پیداواراور ملازمت کے مواقع کو نمایاں کرتا ہے۔اس موقع پر نائب وزےر اعلیٰ ڈی کے شےو کمار ، وزراءپرینک کھرگے، ایم بی پاٹل، ناروے کے وزیر صحت جان کرسچن ویسٹر، جرمن باویریا کی ریاستی پارلیمنٹ کے صدر ایلس ایگنر، پولینڈ کے نائب وزیر رافیل روزنسکی، میلبورن کے میئر نکولس ریز، رکن اسمبلی و کیونکس کے چےرمین شر ت بچے گوڈا ،، انفوسس کے شریک بانی کرس گوپال کرشنا، بائیو کان کے سی ای او ڈاکٹر کرن مجمدار شاہ، ڈاکٹر اے ایس کرن کمار، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے ڈائرکٹر اروند کمار، کرناٹک ڈجےٹل اکانومی کے سی ای او بی وی نائیڈو، سنجے تیاگی اور دیگر موجود تھے۔

One thought on “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *