urdu news today live

کیا ڈی کے شیو کمار بی جے پی کی باہری حمایت سے حکومت بنائیں گے؟
سدانند گوڈا کی طرف سے حمایت کے آفر کے بعد قیاس آرائیوں میں شدت
بنگلورو۔27 نومبر (سالار نیوز)بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)نے وزیر اعلی کے عہدے کےلئے نائب وزیر اعلی ڈی کے شیوکمار کو بیرونی حمایت کی پیشکش کرتے ہوئے کرناٹک کانگریس میں جاری انتشار سے فائدہ اٹھانے کےلئے کوشش تیزی کر دی ہے۔ سابق مرکزی وزیر اور سابق وزیر اعلی ڈی وی سدانند گوڈا نے اشارہ دیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) ڈی کے شیو کمار کی قیادت میں حکومت بننے کی صورت میں باہر سے حمایت دینے کےلئے تیار ہے، اگر وہ حکومت کی قیادت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ڈی کے شیوکمار آتے ہیں اور ہمیں باہر سے حمایت دیتے ہیں تو بھی ہم اسے قبول کریں گے۔ لیکن مرکزی قائدین کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ کیا ڈی کے شیوکمار وزیر اعلی ہوں گے۔ اگر ہمارے مرکزی لیڈر ہم سے حمایت دینے کےلئے کہیں گے تو ہم کبھی بھی ہائی کمان کے الفاظ کے خلاف نہیں جائیں گے۔ اگر بی جے پی کی مرکزی قیادت کرناٹک بی جے پی کو حکومت بنانےکےلئے ڈی کے شیو کمار کی حمایت کرنے کو کہے گی، تو ہم کریں گے۔ یہاں تک کہ جب انہوں نے شیوکمار کی قیادت کو قبول کرنے کی بات کی اگر ایسا کرنے کی ہدایت کی جائے ۔شیوکمار کے وزیر اعلی بننے کے امکانات کے ارد گرد بحث بھی زور پکڑ گئی ہے کیونکہ وزیر اعلی سدارامیا نے اب ڈھائی سال کا عہد مکمل کر لیا ہے۔ اس مدت کی تکمیل نے کانگریس کے اندر ممکنہ اقتدار کی منتقلی کے بارے میں دیرینہ قیاس آرائیوں کو زندہ کر دیا ہے۔ ایک ایسا انتظام جو 2023 میں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سدارامیا اور شیوکمار کے درمیان تنازعہ کا باعث رہا ہے۔ اندرونی بحث میں شدت آنے کے ساتھ، گزشتہ ہفتے نئی دہلی کا سفر کرنے والے کانگریس اراکین اسمبلی نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ شیوکمار کے ہاتھ میں اعلی کمان کو بلند کرنے کا کوئی بھی فیصلہ یقینی ہے۔اس دوران سیاسی ذرائع سے ملنے والی خبرو ں میں ےہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بننے کےلئے ڈی کے شیو کمار کی دوڑ دھوپ کے درمیان بی جے پی کی مرکزی قیادت سے بھی ان کو ےہ پےغام ملا ہے کہ ان کو اگرحکومت سازی میں بی جے پی کی حمایت کی ضرورت پڑے تو بتائیں ،بی جے پی کی ریاستی یونٹ سے کہا جائے گا کہ وہ ڈی کے شیو کمار کے ساتھ کھڑی رہے۔ مانا جا رہا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے شیو کمار سے کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کانگریس کے 50-60اراکین اسمبلی کو شامل کرلیں تو ان کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنادیا جائے گا اور ان کو وزارت کی تشکیل کی مکمل آزادی رہے گی۔ بی جے پی ان کی حکومت کا حصہ نہیں رہے گی اور باہر سے حمایت کر سکتی ہے۔ اس حمایت میں ان کے ساتھ جنتا دل(ایس ) کے اراکین اسمبلی بھی شامل رہیں گے جو فی الوقت این ڈی اے کا حصہ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈی کے شیو کمار کی طرف سے اس آفر کا اب تک جواب نہیں دیا گیا ہے لیکن اتنا ضرورہے کہ اس آفر کو دکھا کر وہ کانگریس قیادت کر دباو¿ ڈالنے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں کہ اگران کو وزیر اعلیٰ بننے نہیں دیا جاتا ہے تو ان کے پاس دوسرے راستے بھی کھلے ہیں۔

5 thoughts on “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *