ناشتہ کی میٹنگ میں قیاد ت کا مسئلہ سلجھ گیا
ہائی کمان کے حکم کی تعمیل کرنے سدارامیا اور ڈی کے شیو کمار کا اعادہ
بنگلورو۔29 نومبر (سالار نیوز) قیادت کی تبدیلی کے معاملہ پرناراضگی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے،وزیر اعلی سدارامیا اور ان کے نائب ڈی کے شیوکمار نے ہفتہ کو ایک متحدہ محاذ پےش کیا، اس بات پر زور دیا کہ ان کے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں اور وہ مستقبل میں بھی متحد رہیں گے۔سدارامیا کی رہائش گاہ کاویری میں ناشتے کی میٹنگ کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں لیڈروں نے کہا کہ وہ پارٹی ہائی کمان کے فیصلے کی پابندی کریں گے۔ڈھائی سال پرانی کانگریس حکومت کو پریشان کرنے والے اس معاملے پر تعطل کو ختم کرنے کےلئے کانگریس ہائی کمان کے حکم پر وزیر اعلیٰ نے ناشتے کی میٹنگ طلب کی تھی، اپوزیشن بی جے پی نے وزیر اعلی اور ان کے نائب کے درمیان اقتدار کی کشمکش جاری رہنے پر عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا انتباہ دیا تھا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ میں نے شیوکمار کے ساتھ ناشتے میں ملاقات کی تھی کیونکہ کچھ ناپسندیدہ غلط فہمی پیدا ہوئی تھی۔ اسے میڈیا نے پیدا کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان کوئی اختلافات نہیں ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم متحد ہیں اور مل کر 2028 کا اسمبلی الیکشن لڑیں گے۔سدارامیا نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ کوئی بھی وزیر اور حکمراں پارٹی کے اراکین اسمبلی حکومت کے خلاف نہیں ہےں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسمبلی کا سامنا کریں گے۔ ہم نے ایک حکمت عملی تیار کی ہے کہ کس طرح بی جے پی اور جے ڈی (ایس) کا سامنا کرنا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے گی۔ اگر وہ تحریک التواءلاتے ہیں تو ہم اس سے نمٹ لیں گے،۔اپنی طرف سے شیوکمار نے کہا کہ لوگوں نے کانگریس پارٹی کی حمایت کی ہے اور اسے اقتدار میں لایا ہے۔ اس لئے کانگریس کو ان کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔سدارامیا کے ساتھ اختلافات کو مسترد کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا، ہمارے پاس گروہ بندی نہیں ہے۔ہم ساتھ چلیں گے، سب کو ساتھ لے کر چلیں گے اور پارٹی ہائی کمان کے احکامات کی پابندی کریں گے۔شیوکمار، جو کانگریس کے ریاستی صدر بھی ہیں، نے کہا کہ انہوں نے 2028 کے اسمبلی انتخابات کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کے بارے میںاور اگر بی جے پی کرناٹک قانون ساز کے آئندہ سرمائی اجلاس میںعدم اعتماد کی تحریک پیش کرتی ہے تو اس سے نمٹنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔شیوکمار نے یہ بھی واضح کیا کہ پارٹی 2028 کے اسمبلی انتخابات اے آئی سی سی صدرملےکارجن کھرگے اور کانگریس ایم پی راہل گاندھی کی قیادت میں لڑے گی۔پارٹی ملک میں ایک بہت مشکل مرحلے میں ہے۔ ہمیں اب بھی یقین ہے کہ کرناٹک اس کے احیا میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ اور ہم 2028 میں 2023 کی انتخابی فتح کو دہرائیں گے۔اس سےقبل، ناشتے کی ملاقات کے بعد ایک سوشیل میڈیا پوسٹ میں، شیوکمار نے کہا کہ دونوں رہنماوئں نے نتیجہ خیز بات چیت کی۔جبکہ سدارامیا یہ دعوی کر رہے ہیں کہ انہیں پوری پانچ سال کی میعاد کےلئے وزیر اعلی کے عہدے پر رہنے کا مینڈیٹ ملا ہے، شیوکمار نے اشارہ کیا ہے کہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ڈھائی سال کے بعد انہیں باری باری کی بنیاد پر ترقی دی جائے گی۔قیادت کی تبدیلی کا معاملہ پچھلے دو ماہ سے چل رہا تھا لیکن 20 نومبر کے بعد اس میں شدت آئی جب کانگریس حکومت کے ڈھائی سال مکمل ہو گئے۔کانگریس ہائی کمان نے جمعہ کو مداخلت کی اور دونوں لیڈروں سے کہا کہ وہ آپس میں بات کرکے مسئلہ حل کریں۔اسی مناسبت سے سدارامیا نے اپنے نائب کو ناشتے کی میٹنگ کےلئے گھر آنے کی دعوت دی تھی۔ ناشتے کی میٹنگ کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ہم پارٹی کے وفادار سپاہی ہیں، پارٹی قومی سطح پر مشکل مرحلے میں ہے، ہم ملےکارجن کھرگے اور راہل گاندھی کی قیادت میں مل کر 2028 اور 2029 کا الیکشن لڑیں گے۔ ہمارا مقصد پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانا ہے اور ہم نے ریاستی سطح پر اس مقصد کےلئے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔شیو کمار نے کہا کہ میں نے وزیر اعلی کے ساتھ ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ناشتے کی میٹنگ کی۔ سدارامیا اگلے چند دنوں میں لنچ یا ڈنرکےلئے گھر آئیں گے۔ ہم مل کر کام کر رہے ہیں اور ہماری پارٹی ہمارے پارٹی کارکنوں کی محنت اور عوام کے آشیرواد سے اقتدار میں آئی ہے۔ ریاست کے لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا ہے اور ان کی امنگوں کو پورا کرنا ہمارا فرض ہے۔اپوزیشن کے خلاف جوابی حکمت عملی سے متعلق انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایاکہ سرمائی اجلاس 8 دسمبر سے شروع ہو گا اور ہم نے اپوزیشن جماعتوں سے نمٹنے کےلئے جوابی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ ہم اپوزیشن کے کسی بھی سوال کا جواب دینے کےلئے تیار ہیں۔شیو کمار نے کہا کہ ہمارے درمیان کوئی گروپ بندی نہیں ہے۔ ایس ایم کرشنا کے دور میں کوئی گروپ بندی کی سیاست نہیں تھی اور نہ اب کوئی گروپ بندی کی سیاست ہے، صرف ایک گروپ ہے اور وہ ہے کانگریس ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا جب مجھے پچھلی سدارامیا کی حکومت کے پہلے 6 ماہ تک وزیر نہیں بنایا گیا تھا۔ میں ہائی کمان کی ہدایت کے مطابق مل کر کام کرنے کےلئے پر±عزم ہوں۔ ہم دونوں پارٹی کو طاقت بخشنے کےلئے پر±عزم ہیں۔ ہم نے 2028 میں پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کےلئے کئی پروگرام بنائے ہیں اور ہم اس کےلئے مل کر کام کر رہے ہیں۔ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ مکئی، گنے اور آبپاشی پراجکٹس کےلئے ایم ایس پی پر بات چیت کےلئے دہلی کا سفر کے متعلق پوچھے جانے پر شیو کمار نے کہا کہ وہ دہلی کا دورہ کریں گے،اگر ہائی کمان ہمیں بلائے گی تو ہم ضرور جائیں گے۔ اس کے علاوہ، ہمیں مکئی اور گنے کے ایم ایس پی کے معاملے پر اپنے ممبران پارلیمنٹ سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ مرکز اس معاملے پر ریاست کی حمایت نہیں کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعلی نے وزیر اعظم سے بھی ملاقات کی، ہم ممبران پارلیمنٹ سے مطالبہ کریں گے کہ وہ مرکز پر دباو¿ ڈالیں۔ وہ اس بارے میں مرکزی وزیر کو بھی شامل کریں۔ مےکے داٹو معاملہ پر انہوںنے کہا کہ ریاست کے مفادات کے تحفظ کےلئے عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے اور یہ فیصلہ سی ڈبلیو سی کے کورٹ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اسمبلی اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی حقدار ہیں، یہ بطور اپوزیشن پارٹی ان کا حق ہے، ہم اس کا سامنا کرنے کےلئے تیار ہیں۔
اپنے دروازے پر نیوز پیپر حاصل کریں
SALAR URDU DAILY
GET NEWSPAPER AT YOUR DOOR STEP