urdu news today live

ناشتہ کی میٹنگ اتحاد کی نہیں جنگ بندی کی علامت ہے
حکومت بیلگاوی اجلاس کو اپنے ایجنڈے کےلئے استعمال کر رہی ہے:آر اشوک
بنگلورو۔29 نومبر (سالار نیوز)ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار کے درمیا ن کرسی کےلئے جاری رسہ کشی کو سلجھانے کےلئے کانگریس اعلیٰ کمان کی ہدیات پر ہفتہ کی صبح جو ناشتہ کی میٹنگ ہوئی وہ اتحاد کا مظاہرہ نہیں بلکہ دونوں کے درمیان عارضی جنگ بندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت بیلگاوی لےجس لےچر کا اجلاس صرف اپنی سیاسی سہولت کےلئے منعقد کر رہی ہے نہ کہ عوامی مفاد کےلئے،۔ انہوں نے کہا کہ سیشن آٹھ دن سے زیادہ چلنے کا امکان نہیں ہے۔اشوک نے شہر کی ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ بی جے پی اور جے ڈی(ایس)قانون سازوں کی کوآرڈینیشن میٹنگ کے بعد کہا کہ حکمراں کانگریس بیلگاوی اجلاس کی آڑ میں اپنے ِبلوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر ایجنڈا بنگلورو کے مسائل پر مرکوز ہے تو شمالی کرناٹک میں اجلاس منعقد کرنے کا کیا فائدہ؟ ۔انہوں نے یاد دلایا کہ ایچ ڈی کمارسوامی اور بی ایس یڈیورپا کی سابقہ مدت کے دوران بیلگاوی اجلاس علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے اور سوورنا سودھا کی تعمیر پر زور دینے کے ارادے سے منعقد کیا گیا تھا۔ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو سیشن کو 20 دن تک چلنے دے تاکہ شمالی کرناٹک کے مسائل پر بات کی جا سکے۔اشوک نے کہا کہ بی جے پی اور جے ڈی(ایس)، این ڈی اے کے شراکت داروں کے طور پر، دونوں ایوانوں کے اندر موثر طریقے سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے موڈااراضی کی تقسیم تنازعہ، والمیکی کارپوریشن مسئلہ، کرکٹ اسٹیڈیم سانحہ اور دیگر اسکینڈلوں کی طرف اشارہ کیا جن کے بارے میں اپوزیشن ممبروں نے مشترکہ طور پر آواز اٹھائی تھی۔انہوں نے کانگریس حکومت پر اپنے وعدوں سے بھٹکنے اور 60فیصد کمیشن والی حکومت میں تبدیل ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ کرناٹک کانگریس ہائی کمان کےلئے اے ٹی ایم بن گیا ہے۔ ہم اس کے خلاف لڑیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ رابطہ اجلاس میں آئندہ اجلاس سے متعلق 10 سے 12 امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مرکزی وزیر ایچ ڈی کمار سوامی نے میٹنگ میں شرکت کی اور ہماری رہنمائی کی۔ ریاستی بی جے پی صدر وجےندرا نے بھی فون کیا اور اپنی تجاویز شیئر کیں۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ایچ ڈی کمارسوامی نے کہا کہ بیلگاوی اجلاس کی پہلی ترجیح شمالی کرناٹک کے مسائل کو حل کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے یادگیر، کلبرگی، بیدر، باگل کوٹ، وجئے پورہ، بیلگاوی اور رائچور جیسے اضلاع میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر ردعمل میں تاخیر کرنے پر حکومت پر تنقید کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں مل کر کام کرنے پر بات چیت کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *