سدارامیا۔ڈی کے شیوکمار ملاقات کے بعد سیاسی ہلچل تیز
وزراء چوکس، دلت وزیراعلیٰ آپشن پر مشاورت شروع
بنگلورو۔4دسمبر(سالارنےوز) وزیر اعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے درمیان سیاسی تنازعہ کے پس منظر میں ہونے والی حالیہ ناشتے کی میٹنگ کے بعد ریاستی سیاست میں نئی سرگوشیاں شروع ہو گئی ہیں۔ دونوں رہنماو¿ں کے درمیان گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے، تاہم ہائی کمان کی مداخلت پر انہیں متفقہ طور پر ملاقات کرنے کی ہدایت دی گئی۔دونوں رہنماو¿ں نے اپنے گھروں پر منعقدہ ناشتے کی نشست میں سیاسی معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ اسی دوران سدارامیا نے منگلورو میں اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال سے بھی ملاقات کی، جس نے سیاسی حلقوں میں تجسس کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ملاقات کے فوراً بعد سدارامیا کے قریبی حلقے پوری طرح الرٹ ہوگئے ہیں۔
قریبی وزراءکی ہنگامی سرگرمیاں:برےک فاسٹ میٹنگ کے بعد سدارامیا گروپ سے تعلق رکھنے والے وزراءاور لیڈروں کی خفیہ مشاورت شروع ہو گئی ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے مختلف رہنماو¿ں کے درمیان ڈنر اور بند کمرہ بیٹھکوں کا سلسلہ جاری ہے۔منگل کو وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور، ستیش جارکی ہولی اور بی کے ہری پرساد کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جب کہ اس سے قبل پرمیشور اور ستیش جارکی ہولی کی علیحدہ میٹنگ بھی سامنے آئی۔ بنگلورو واپسی کے بعد سدارامیا کے قریبی لیڈروں نے دوبارہ ستیش جارکی ہولی کی رہائش گاہ پر میٹنگ کی، جہاں سدارامیا۔ڈی کے شیوکمار بات چیت کے ممکنہ نتائج پر غور کیا گیا۔
دلت وزیراعلیٰ آپشن۔سیاسی پلان بی؟:
باخبر ذرائع کے مطابق اگر مستقبل میں قیادت کی تبدیلی کا مسئلہ دوبارہ اٹھتا ہے تو سدارامیا کے قریبی حلقوں نے ’دلت وزیراعلیٰ‘ کے فارمولے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔اس دھڑے کا موقف ہے کہ اگر ڈی کے شیوکمار کو وزیراعلیٰ بنایا جاتا ہے تو اس کے مساوی دلت برادری کو مواقع ملنے چاہئیں۔ اس سلسلے میں ہائی کمان سے باقاعدہ ملاقات کرکے مطالبہ رکھنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مناسب وقت پر دلت وزیراعلیٰ کے مطالبے کو شدت دینے کا منصوبہ تیار ہو چکا ہے۔ریاستی کانگریس کے اندرونی حلقوں میں ان ملاقاتوں کے بعد بے چینی اور سیاسی سرگرمیوں میں واضح تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
