urdu news today live

بنگلورو۔22 مارچ (سالار نیوز)کرناٹک اسمبلی سے بی جے پی کے18اراکین کی معطلی کے فیصلہ کو درست قرار دیتے ہوئے ریاستی اسمبلی کے اسپےکر یو ٹی قادر نے کہا ہے ان پر ےہ الزام غلط ہے کہ انہوں نے اس طرح کی سخت کارروائی اس لئے کی ہے کہ وہ بی جے پی کے اراکین اسمبلی سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ ہفتہ کے روز ودھان سودھا میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قادر نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی انہوں نے اراکین کی بدتمیزی کی بنیاد پر ہی کی ہے ان پر ایسی کارروائی کرنے کےلئے کسی حلقہ سے کوئی دباو¿ نہیں تھا بلکہ انہوں نے قانون کے تحت ان کو حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کےلئے جو نمائندے چن کر آتے ہیں ان کی عوام کی تئیں کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں جب ان کا برتاو¿ عوام کے سامنے اس طرح کا ہو تو اس سے عوام پر بھی تاثر غلط قائم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اراکین اسمبلی نے ایوان میں ےہ حرکت پہلی بار نہیں کی ہے بلکہ اس سے پہلے بھی اس طرح کی ہنگامہ آرائی ان کی طرف سے کی گئی ہے۔ کیا ایوان کے وقارکو اس طرح سے مجروح کیا جاتا ہے تو اسے کیسے براشت کیا جا سکتا ہے۔ قادر نے کہا کہ ان کے بارے میں ےہ تاثر بے بنیاد اور غلط ہے کہ نفرت کی وجہ سے انہوں نے بی جے پی کے اراکین اسمبلی کو معطل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی کے خلاف کارروائی اس لئے کی گئی ہے کہ ان کو اس بات کا احسا س ہو کہ ان سے غلطی ہوئی ہے۔ قادر نے کہا کہ دوپہر میں جب ایوان کی کارروائی کو انہوں نے ملتوی کیا تو ان کا روےہ ایسا ہی تھا بعد میں جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تب بھی انہوں نے ہنگامہ آرائی جاری رکھی اور ان کی میز کے پاس آکر بدتمیزی کرنے لگے تو ایسے میں وہ کیا کرتے، ان تمام کے خلا ف سخت کارروائی کر کے انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا۔اس معاملہ میں عدالت سے رجوع ہونے بی جے پی اراکین اسمبلی کے بیان پر قادر نے کہا کہ اس کا ان کو پورا اختیار ہے ۔ لیکن اراکین اسمبلی کو ےہ سمجھنا چاہئے کہ انہوں نے جو کیا ہے کیا وہ حرکت درست ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے جن 18اراکین اسمبلی کو معطل کیا ہے وہ سزا نہیں بلکہ سدھرنے کا ایک موقع ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہنی ٹریپ کے معاملہ میں بی جے پی رکن اسمبلی بسونا گوڈا پاٹل ےتنال نے جب اچانک بولنا شروع کر دیا تو ان کو موقع دیا گیا اس کے بعد جب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ نے معاملہ کی جانچ کروانے کا یقین دلایا تو اس کے بعد معاملہ کو اور زیادہ طول دینے کی ضرورت نہیں تھی۔د و دو بار وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کی طرف سے اس معاملہ پر وضاحت کے بعد بھی ہنگامہ کھڑا کرنا غلط ہے یا نہیں؟

7 thoughts on “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *