urdu news today live

والدین کو اسپتالوں میں بے سہارا چھوڑدینے والوں کی شامت آئی
ریاست بھر میں 3ہزارسے زیادہ مقدمے درج،2007کو نپٹا دیا گیا
بنگلورو۔5 اپرےل(سالار نیوز)کرناٹک کے تمام سرکاری میڈیکل کالجوں کے ڈائریکٹروں کو والدین اور بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال اور بہبود ایکٹ 2007کے تحت مقدمات درج کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس ہدایت کا مقصد ایسے واقعات کو حل کرنا ہے جہاں بچے اپنے بوڑھے والدین کو طبی علاج کے لیے داخل کرنے کے بعد چھوڑ دیتے ہیں۔مین ٹیننس اینڈ ویلفیئر آف پیرنٹس اینڈ سینئر سٹیزنز ایکٹ، 2007یہ حکم دیتا ہے کہ بچے اور قانونی ورثا قانونی طور پر اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ماہانہ الانس کے ذریعہ بوڑھے والدین کی کفالت فراہم کریں۔ سماجی انصاف اور بااختیار بنانے کی وزارت کے ذریعہ نافذ کیا گیا، یہ قانون بزرگ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کےلئے ایک تیز رفتار اور کفایت شعاری کا طریقہ کار بھی پیش کرتا ہے۔ میڈےکل ایجوکیشن اور ہنرمندی کی ترقی کے وزیر شرن پرکاش پاٹل کے مطابق کرناٹک کے تمام سرکاری میڈیکل کالجوں نے اس قانون کے تحت کافی قانونی کارروائی کا انکشاف کیا ہے۔ اس کے نفاذ کے بعد سے ریاست بھر میں اسسٹنٹ کمشنر عدالتوں میں کل 3,010مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ان میں سے 2,007کیسز نمٹائے جا چکے ہیں جب کہ 1,003کیسز زیر التوا ہیں۔سب سے زیادہ کیسز، جن کی کل تعداد 827ہے، بنگلورو اربن ضلع میں ریکارڈ کی گئی ہے، جن میں سے صرف 274کیسز سامنے آئے ہیں۔ ضلع ہاسن میں 588مقدمات درج ہوئے جن میں سے 581کو نمٹا دیا گیا ہے۔ مختلف معذوروں اور بزرگ شہریوں کو بااختیار بنانے کے محکمہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اترا کنڑ اور داونگیرے اضلاع میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔حال ہی میں، ریاستی حکومت نے ایک سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ ہسپتالوں میں اپنے بوڑھے والدین کو چھوڑنے والے بچوں کے حق میں جائیداد کی منتقلی اور وصیت کو منسوخ کیا جا سکتا ہے۔یہ اقدام بیلگاوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی تشویشناک رپورٹس کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں بزرگ مریضوں کے ان کے اہل خانہ کی طرف سے ویران کر دئےے جانے کے 150سے زیادہ کیسز درج کئے گئے ہیں۔ اسی طرح کے واقعات ریاست بھر کے کئی دیگر سرکاری میڈیکل کالجوں میں بھی سامنے آئے ہیں۔

One thought on “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *