urdu news today live

مزدور اور کسان پالیسیوں کے خلاف آج ملک گےراحتجاج
چاروں کارپورےشنوں کی بسےں چلےں گی : کے اےس آرٹی سی
بنگلور۔8جولائی (سالارنےوز)دس مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بروزچہارشنبہ9 جولائی کو مرکزی حکومت کی مزدور اور کسان پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے لیے بھارت بند کی کال دی ہے۔ اس ہڑتال میں 25 کروڑ سے زیادہ مزدوروں کے حصہ لینے کا امکان ہے جس سے بینکوں، ڈاکخانوں، انشورنس کمپنیوں، کان کنی کمپنیوں اور نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کی خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ مرکزی حکومت مزدور دشمن اور کسان مخالف پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کارپوریٹ کمپنیوں کی مدد کر رہی ہے۔ ٹریڈ یونینوں کا الزام ہے کہ مزدور تنظیمیں حکومت پر دباو¿ ڈالنے کے لیے پچھلے کچھ مہینوں سے اس بند کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہ احتجاج اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ سال مرکزی حکومت کے وزیر محنت منسکھ منڈاویہ کو پیش کیے گئے 17 مطالبات کو پورا نہیں کیا گیا تھا۔ تنظیموں نے مطالبہ پر جلد عمل درآمد کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرانے کے لیے ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کی امرجیت کور نے کہا کہ کسان اور دیہی کارکن بھی ہڑتال میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بند کی وجہ سے بینکنگ، ڈاک، انشورنس، کوئلے کی کانوں، کارخانوں اور ٹرانسپورٹ خدمات میں دشواری ہو سکتی ہے۔ اسکول اور کالج معمول کے مطابق چلیں گے۔ اگر بند کی حمایت میں پرائیویٹ بسوں کا عملہ ہڑتال پر جاتا ہے تو اسکولوں اور کالجوں کو جانے کے لیے بسوں پر انحصار کرنے والے طلبہ کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔جہاں تک کرناٹک کا تعلق ہے ،وہاں بندکے لےے مکمل حماےت نہ کرنے کی اطلاعت ہےں۔کرناٹک میں رےاستی روڈٹرانسپورٹ(کے اےس آرٹی سی)، ساو¿تھ ویسٹ، نارتھ ویسٹ ٹرانسپورٹ اور بی اےم ٹی سی بسیں معمول کے مطابق چلیں گی۔ ان 4 کارپوریشنوں کے ملازمین بند کی حمایت میں ہڑتال پر نہیں جا رہے ہیں۔ کے ایس آر ٹی سی کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ بسیں معمول کے مطابق چلیں گی۔ آٹو، ٹیکسی اور پرائیویٹ بس مالکان اور تنظیمیں بڑی تعداد میں بند میں حصہ نہیں لے رہی ہیں۔ اس طرح بنگلور سمیت بڑے شہروں میں خدمات معمول کے مطابق رہیں گی۔ اس بھارت بند میں ریلوے یونینیں حصہ نہیں لے رہی ہیں۔سنٹرآف انڈےن ٹرےڈےونینس(سی آئی ٹی ےو)،ٹرےڈ ےونےن کوآرڈی نےشن سنٹر(ٹی ےوسی سی)،انڈےن نےشنل ٹرےڈےونےن کانگرےس(آئی اےن ٹی ےوسی)، آل انڈےاٹرےڈےونےن کانگرےس(اے آئی ٹی ےوسی)، آل انڈےاسنٹرل کونسل آف ٹرےڈےونےن (اے آئی سی سی ٹی ےو)،لےبرپروگےسےوفےڈرےشن(اےل پی اےف)،ےونائٹےڈٹرےڈ ےونےن کانگرےس( ےوٹی ےوسی)،ہندمزدورسبھا(اےچ اےم اےس)، آل انڈےاےونائٹےڈٹرےڈےونےن سنٹر(اے آئی ےوٹی ےوسی)اورسےلپ اےمپلائڈوومےنس اسوسی اےشن(اےس ای ڈبلےواے)اس احتجاج مےں اپنی تائےداورشرکت کااعلان کےاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *