ایس ایس ایل سی کے خراب نتائج کے بعدحکومت سے 29نکاتی اصلاحی منصوبہ جاری
بنگلورو۔11جولائی(سالارنےوز) کرناٹک میں ایس ایس ایل سی کے نتائج میں کمی پر بڑھتے ہوئے رجحان کو قابو میں کرنے کےلئے محکمہ اسکولی تعلیم اور خواندگی نے طلبا کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے مقصد سے ایک جامع 29 نکاتی ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق، نئے رہنما خطوط ایس ایس ایل سی کے پاس اوسط کے بعد سامنے آئے ہیں ان کے مطابق 2024 میں 54 فیصد تھا، 1.7 لاکھ طلبا کو گریس مارکس ملنے کے بعد ہی بڑھ کر 73 فیصد ہوسکا۔ 2025 سے 62 فیصد تک معمولی بہتری کے باوجود، مجموعی نتیجہ غیر تسلی بخش ہے، جس سے محکمے کو مداخلت کرنا پڑگیا۔نئے رہنما خطوط کے مطابق، اسکولوں کو دسمبر 2025 تک نصاب مکمل کرنا ہوگا اور کلاس 10 کے طلبا کےلئے دو ماہانہ والدین اور اساتذہ کی میٹنگ کے ساتھ خصوصی کلاسز کا انعقاد کرنا ہوگا۔ اساتذہ کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ طلبا کو موبائل فون اور سوشےل میڈیا کی لت کے مضر اثرات کے بارے میں کم از کم دو مرتبہ رہنمائی کریں۔اسٹوڈنٹ اچیومنٹ ٹریکنگ سسٹم (SATS) کے ذریعے روزانہ حاضری کا پتہ لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیںابتدائی وارننگ سسٹم کے تحت، اساتذہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سات دنوں سے زیادہ غیر حاضر رہنے والے طلبا کے گھر جا کر وجوہات کی چھان بین کریں اور ان کی سکول واپسی کو یقینی بنائیں۔ ان میں اسکولوں کو مزید ہدایت دی گئی ہے کہ وہ باقاعدہ یونٹ ٹیسٹ کے ذریعے طلبا کی پیشرفت پر نظر رکھیں اور ہر صبح اساتذہ کے ذریعے ویک اپ کالز متعارف کرائیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ طلبا پڑھ رہے ہیں۔ کھیلوں کی سرگرمیوںکےلئے ہفتے میں ایک گھنٹہ مختص کیا جانا چاہیے تاکہ طالب علموں کو تنا و¿پر قابو پانے میں مدد ملے۔ناقص کارکردگی والے اسکولوں کی نشاندہی کی جائے گی، اور ضلعی سطح پر ڈپٹی ڈائریکٹرز(انتظامیہ)کو اہم مسائل کے حل کے لیے کام سونپا گیا ہے۔رہنما خطوط میں محکمے کے افسران کو جمعہ کو اسکولوں کا ہفتہ وار دورہ کرنے اور متعلقہ اسکولوں میں سیکھنے کی پیشرفت کا تجزیہ کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔اسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ویب کاسٹنگ کے ساتھ تین پرپےرےٹری امتحانات منعقد کریں ۔ بورڈ کے امتحانات میں ناکام ہونے والے طلبا کو دوبارہ رجسٹریشن کرنے کی اجازت ہوگی۔ محکمہ نے دوبارہ رجسٹریشن کے عمل میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کےلئے تعلقہ اور ضلع کی سطح پر بیداری مہم چلانے پر زور دیا ہے۔