ریاست میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں منظم وقف بچاو¿دستور بچاو¿ تحریک
23ا گست کو ریاستی سطح کا احتجاجی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان
بنگلور۔ 11جولائی(راست) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف جاری وقف بچا، دستور بچا تحریک کے تحت کرناٹک کی ریاستی کمیٹی کا ایک اہم مشاورتی اجلاس دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت تحریک کے ریاستی کنوینر، امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادی نے کی۔ اجلاس میں ریاستی کمیٹی کے ذمہ داران کے علاوہ مختلف ذیلی کمیٹیوں کے کنوینرز اور کو کنوینرز بھی شریک رہے۔ اس مشاورتی اجلاس میں تحریک کے تحت جاری سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ہر ذیلی کمیٹی کی جانب سے اپنی اجمالی رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ تحریک کے تحت اب تک ریاست بھر کے مختلف اضلاع میں کالی پٹی باندھنے کی مہم، بتی گل تحریک، ضلعی سطح پر احتجاجی ریلیاں اور جلسے، صدر جمہوریہ کو ریاست کے تقریبا تمام اضلاع کے ڈی سی کے توسط سے میمورنڈم کی پیشی، غیر مسلم برادران وطن کے ساتھ راو¿نڈ ٹیبل میٹنگس، میڈیا کے ساتھ موثر پریس کانفرنسیں، علمائے کرام کے خصوصی مشاورتی اجلاس، مساجد فیڈریشن کی میٹنگ، خواتین کے الگ اجتماعات، انسانی زنجیر کے ذریعہ خاموش احتجاج اور سوشےل میڈیا پر منظم کیمپین اور ہیش ٹیگ ٹرینڈ جیسے اہم کام انجام پائے ہیں۔ اجلاس میں ان تمام سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشورے کیے گئے۔ اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ بارش کی وجہ سے ملتوی ہونے والا ریاست کا نمائندہ احتجاجی اجلاس عام اب 23 اگست 2025 بروزہفتہ بنگلور کے پیالس گراو¿نڈ میں منعقد ہوگا، جس میں ریاست بھر سے تمام اضلاع کے نمائندے اور مسلمان شریک ہوں گے اور وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف ملت کا اجتماعی احتجاجی موقف دنیا کے سامنے آئے گا، اس اجلاس میں بورڈ کی اعلی قیادت بھی موجود رہے گی۔ اسی کے ساتھ21 اگست بروز جمعرات عیدگاہ قدوس صاحب بنگلور میں خواتین کا نمائندہ اجلاس منعقد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں شہر بنگلور کی خواتین کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاست کے مختلف اضلاع میں جو احتجاجی اور بیداری مہم جاری ہے وہ بلارکاوٹ چلتی رہے اور تمام مقامی ذمہ داران اپنی تیاریوں کو مزید مضبوط کریں تاکہ ریاستی سطح کے نمائندہ پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ اجلاس میں شریک تمام اداروں، تنظیموں، جماعتوں کے ذمہ داران، علما کرام اور کمیٹی کے کنوینرز نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وقف ترمیمی قانون کے خلاف یہ تحریک آئینی و جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے پرامن، منظم اور مربوط انداز میں جاری رکھی جائے گی اور حکومت وقت پر دبا بڑھایا جائے گا کہ وہ اس آئین مخالف اور اقلیت دشمن قانون کو واپس لے۔ اجلاس کے اختتام پر تمام ذمہ داران نے ریاست کے علما و عوام، مساجد کے ذمہ داران، ادارے اور نوجوان سے اپیل کی کہ 23/ اگست کے ریاستی احتجاجی اجلاس میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں اور وقف کے تحفظ کے اس مقدس فرض کو اپنی ملی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ادا کریں نیز خواتین سے گزارش کی گئی کہ وہ 21/ اگست کے خواتین کے اجلاس میں شرکت کریں۔ اس مشاورتی اجلاس میں تحریک کے ریاستی ذمہ داران بالخصوص مفتی افتخار احمد قاسمی(صدر جمعیت علما کرناٹک و رکن بورڈ)، مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی (امام و خطیب جامع مسجد سٹی بنگلور)، ڈاکٹر سعد بلگامی (امیر جماعت اسلامی کرناٹک)، مولانا اعجاز احمد ندوی(خطیب مسجد چار مینار اہلحدیث بنگلور)،عاصم سیٹھ افروز(رکن بورڈ) سلیمان خان (معاون جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل)، مولانا عبد الرحیم رشیدی(صدر جمعیت علما کرناٹک)، محمد یوسف کنی(سکریٹری جماعت اسلامی کرناٹک)، مولانا نوشاد عالم قاسمی(صدر ملی کونسل کرناٹک)، سید شفیع اللہ ، تفہیم اللہ معروف ، سید سردار، محمد فرقان اور دیگر کئی اہم علما و شخصیات نے شرکت کی اور اپنے مشوروں سے نوازا۔
Here’s more on the topic https://kinocirk.ru/