urdu news today live

مسلمانوں کو 8فیصد ریزرویشن دلانے کی کوشش ہو رہی ہے، حکومت تمام کے ساتھ انصاف کی پابند:نصیر احمد
خصوصی انٹرویو: رضوان اللہ خان، چیف رپورٹر
بنگلورو:
کرناٹک میں گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران مسلمانوں نے جس جوش وخروش کے ساتھ متحد ہو کر کانگریس کو اقتدار پر لانے کےلئے 90فیصد سے زیادہ ووٹ دئےے اور جس کے نتیجے میں کانگریس نے واضح اکثریت کے ساتھ حکومت بنائی اس کے بعد اس حکومت نے مسلمانوں سے کئے گئے وعدوںکو پورا کرنے اور مسلمانوں کی امنگوں کو پورا کرنے کےلئے کیا کچھ کیا اور کیا کرنا رہ گیا ہے ان تمام امور پر وزیر اعلیٰ سدارامیا کے سیاسی مشیر اور رکن کونسل نصیر احمد نے ’سالار ‘ کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے حکومت کی طرف سے مسلمانوں کی ترقی کےلئے اٹھائے گئے اقدامات، بجٹ میں دئےے گئے فنڈس،تعلیم کی طرف توجہ ، مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کےلئے اب تک کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصےلی گفتگو کی پےش ہیں اس انٹرویو کے اقتباسات
سوال: کرناٹک میں کانگریس حکومت کو اقتدار پر لانے میں مسلمانوں نے جس جوش وخروش کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کیا اور 90فیصد سے زیادہ ووٹ اس پارٹی کو دئےے اس مرحلہ میں کانگریس قیادت کی طرف سے مسلمانوں کے جن سلگتے مسائل کو سلجھانے کے وعدے ہوئے تھے اور مسلمانوں نے جس امنگ کے ساتھ کانگریس کو ووٹ دیا تھا ایسا لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ان کو پورا کرنے میں کانگریس حکومت پےچھے رہ گئی ہے اس بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟۔
نصیر احمد:ےہ ایک تسلےم شدہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں متحد ہو کر کانگریس کا ساتھ دیا اور اسی کی بدولت کانگریس حکومت واضح اکثریت کے ساتھ قائم ہو سکی۔انتخابات کے مرحلہ میں کانگریس پارٹی نے جن مسائل کوسلجھانے کا مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا ان کو پارٹی بھولی نہیں ہے بلکہ ان کو سلجھانے کی کوشش پوری دیانتداری کے ساتھ ہو رہی ہے ۔ چند رکاوٹوں کی وجہ سے حجاب اور انسداد گﺅ کشی قانون کو واپس لینے کا مسئلہ اب تک سلجھ نہیں پایا ہے۔ خو د وزیر اعلیٰ سدارامیا نے بار ہا ان مسائل کو سلجھانے کی بات کہی ہے۔ ایک اہم وجہ ےہ ہے کہ ریاستی اسمبلی میں جہاں کانگریس کو 139اراکین کی واضح اکثریت حاصل ہے وہیںکونسل میں اسے اکثریت حاصل نہیں۔ اسمبلی سے اگر کوئی قانون پاس کر کے کونسل میں بھےجا جائے تو وہاں اس کو پاس کرنے میں رکاوٹیں حائل ہو جاتی ہیں۔ اب کانگریس کی طرف سے کونسل کی چار نشستوں کےلئے اراکین کو نامزد کر دئےے جائیں گے جس کے بعدایوان بالا میں پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہو جائے گی اس کے بعد یقین ہے کہ انسداد گﺅ کشی اور حجاب پر پابندی جیسے مسائل پر حکومت اپنا موقف واضح کر سکے گی۔ جہاںں تک مسلمانوں کے 4فیصد ریزرویشن کا معاملہ ہے ۔ ریاست میں ذات پات مردم شماری کے جو اعداد وشمار کانت راج کمیشن اور اب جئے پرکاش ہےگڈے کمیشن کی رپورٹوں میں دئےے گئے ہیں ان میں ریاست میں مسلمانوں کی آبادی اور ان کی سماجی ، معاشی وتعلیمی پسماندگی کو ذہن میں رکھ کر مسلمانوں کو 8فیصد ریزرویشن ددینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح روی ورما کمار نے اپنی رپورٹ میں مسلمانوں کو 7فیصد ریزرویشن دینے کی سفارش کی ہے۔ اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ مسلمانوں کو 8فیصد ریزرویشن دلایا جائے۔
سوال: شہر بنگلورو سے جڑا ہوا ایک اہم مسئلہ ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی تشدد کیس میں گرفتار نوجوان پانچ سال سے زیادہ عرصے سے قید میں ہیں۔ ان کی رہائی کےلئے کوششوں کے درمیا ن اب ےہ بات سامنے آ رہی ہے کہ ان پر دباو¿ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اقبال جرم کرلیں ۔ےہ کہاں تک سچ ہے؟
نصیر احمد: جی ہاں ےہ بات کافی حد تک سچ ہے کہ جو نوجوان ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی تشدد کیس میں برسوں سے مقید ہیں ان پر دباو¿ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اقبال جرم کرلیں۔ اس کیس میں جانچ کرنے کے بعد این آئی اے نے یو اے پی اے قانون کی دفعات کے تحت نہ صرف مقید 42نوجوانوں کے خلاف بلکہ جن 128نوجوانوں کو ضمانت مل چکی ہے ان تمام کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے اور ا س کیس میں ان تمام کو ملزم کے طور پر ماخوذ کیا ہے ۔ اس کیس پر اگر ٹرائل عدالت میں ہو تا ہے تو اس بات کا پورا یقین ہے کہ ایجنسی ان نوجوانوں پر الزامات ثابت نہیں کر سکے گی اس لئے ان پر دباو¿ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنے جرم کا اقبال کر لیں تاکہ عدالت میں ایجنسی ہزیمت سے بچ سکے۔ اس بارے میں ماہر وکلاءجن میں ایس اے بالن اور دیگر شامل ہیں ان سے مشورہ کیا گیا ہے اور ان کی طرف سے مناسب پہل کی جا رہی ہے۔
سوال: جیسا کہ آپ نے کہا کہ کونسل کےلئے چارنشستوں پر نامزدگی ہونے جا رہی ہے۔ اس میں ایک مسلم نمائندے کو بھی نامزد کیا جا سکتا تھا۔لیکن سنا ےہ جا رہے ہے کہ اگلے سال کے کونسل انتخابات میں آپ خود ایک اور بار نامزد ہونا چاہتے ہیں اس لئے اس بار مسلم امیدوار کی نامزدگی کو روک دیا؟
نصیر: ایسا نہیں۔ مسلم لےجس لیٹرس فورم کے تمام نمائندوں اور مسلم رہنماو¿ں نے وزیر اعلیٰ سدارامیا سے ملاقات کر کے ےہ مانگ کی کہ کونسل کےلئے مسلم نمائندے کو نامزد کیا جائے۔ ان سے کہا گیا کہ لوک سبھا اور اسمبلی کےلئے چن کر آنا چونکہ اب مسلم نمائندے کےلئے اتنا آسان نہیں ہے اس لئے ان کو راجےہ سبھا یا کونسل کےلئے نامزدگی دی جائے تاکہ مسلم نمائندگی ہو سکے۔ اس پر وزیر اعلیٰ نے اس بار ےہ کہہ کر نمائندگی نہیں دی کہ گزشتہ چار بار نامزدگیوں کے مرحلہ میں تین مسلمانوں سلےم احمد،عبدالجبار اور بلقیس بانو کے علاوہ ایک عیسائی ایوان ڈی سوزا کو نمائندگی دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسا ضروری بھی نہیں کہ ہر بار اقلیتی نمائندے کو نامزد کیا جائے انہوں نے وعدہ کیا کہ اگلی بار نمائندگی ضرور دی جائے گی۔
سوال: ےہ ایک شکایت ہے کہ ریاست کے کانگریس مسلم نمائندوں کے درمیان تال میل کی کمی ہے اور مسلمانوں سے جڑے جو بھی فیصلہ ہیں وہ دو تین لوگ بیٹھ کر کر لےتے ہیں۔ ایسا کس لئے؟
نصیر احمد: ریاست کے منتخب مسلم نمائندوں کے درمیان تال میل برابر برقرار ہے۔ حکومت اور مسلمانوں کے درمیان مسلم لےجس لےٹرس فورم برابر کام کر رہا ہے اس فورم کے وہ خود صدر ہیں اور رکن اسمبلی این اے حارث اس کے سکریٹری ہیں۔ فورم کی طرف سے ہر مسلم مسئلہ پر مسلسل بات ہو تی ہے اور حکومت سے اس کی برابر نمائندگی کی جاتی ہے۔ چاہے وہ اہم سرکاری عہدوں پر مسلمانوں کے تقرر کا معاملہ ہو یا دیگر امور ان تمام پرمسلم لیجس لےٹر فورم برابر کام کر رہا ہے۔ ہاں اگر کانگریس پارٹی کے دیگرلےڈروں کی طرف سے تال میل نہ ہونے کی شکاےت کچھ حد تک درست ہو سکتی ہے کیونکہ پارٹی کے دیگر لےڈروں کے درمیان تامےل کی کمی ضرور ہے۔ ریاست میں سینئر رکن اسمبلی تنویر سےٹھ کو کے پی سی سی کا رگزار صدر بنایا گیا ہے ان کو اس سلسلہ میں پہل کرنی چاہئے اور پارٹی کے لیڈروں کی حکومت سے جو بھی شکایت ہے اس کے ازالہ کےلئے اپنی طرف سے کام کرنا چاہئے اس کےلئے وہ ان سے خود اپیل بھی کرتے ہیں کہ وہ آگے بڑھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *