مدھو بنگارپا کا طنزیہ وار، قیادت کی بحث پر بھی جواب
بنگلورو۔3دسمبر(سالارنیوز)کرناٹک کی سیاست میں وزیراعلیٰ کے لئے نائب وزیراعلیٰ کی جانب سے دی گئی ناٹی مرغی کی دعوت نے تنازع مزید گرم کردیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر آر اشوک نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کی ڈی کے شیوکمار کے گھر ناشتے کی میٹنگ پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہنومان جینتی کے دن دیسی مرغی کا قتل کیا گیا” جس کے جواب میں ریاست کے وزیرتعلیم مدھو بنگارپا نے چہارشنبہ کے روز بنگلورو میں سخت ردعمل ظاہر کیا۔ کہاکہ کیا آر اشوک زندہ چکن کھاتے ہیں؟ میڈیا سے گفتگو میں وزیر مدھو بنگارپا نے طنز کرتے ہوئے سوال اٹھایا،آر اشوک زندہ مرغی کھاجاتے ہیں کیا؟انہوں نے کہا کہ آر اشوک کا اعتراض بے بنیاد ہے اور اسے بلاوجہ سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ پیش رفت سے کارکنوں میں الجھن تھی، اب سب کچھ ٹھیک ہے۔وزیر نے واضح کیا کہ ریاستی کانگریس میں قیادت سے متعلق حالیہ واقعات کے باعث کارکنوں اور میڈیا میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، اس درمیان ڈی کے شیوکمار سدارامیا کے گھر گئے اورسدارامیا ڈی کے شیوکمار کے گھر پہنچے۔مدھو بنگارپا نے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس سے واضح ہے کہ پارٹی میں سب کچھ معمول پر ہے۔ وزیراعلیٰ کے مستقل نہ ہونے کی بات کی غلط تشریح نہ کی جائے ،سدارامیا کے حالیہ بیان پر پیدا ہونے والی قیاس آرائیوں پر وزیر نے کہا کہ میڈیا بعض اوقات باتوں کو غلط رخ دے دیتا ہے۔سدارامیا نے صرف ہائی کمان کے فیصلے پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ہائی کمان کے فیصلے ہمارے لئے بھی فیصلہ کن ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ذاتی بیانات دئے ہیں لیکن اس کا پارٹی لائن سے کوئی تعلق نہیں۔ مدھوبنگارپانے دوٹوک اندازمیں کہاکہ قیادت کی تبدیلی نہیں، صرف ظہرانہ تھا۔سدارامیاظہرانے کے لئے گئے تھے، واپس آگئے۔ قیادت میں تبدیلی کہاں سے آگئی؟وزیراعلیٰ اورنائب وزیراعلیٰ کے حمایتیوں کی جانب سے قیادت کے حق میں لگائے گئے نعروں کے بارے میں وزیر نے کہا،حامیوں کا جوش فطری ہے۔حتمی فیصلہ صرف دہلی ہائی کمان کرے گا۔کے سی وینوگوپال ایک قومی لیڈر ہیں، ان کے سامنے مطالبات ظاہر ہونا معمول کی بات ہے۔مدھو بنگارپا نے آر اشوک اور دیگر اپوزیشن لیڈروں پر طنز کرتے ہوئے کہا وہ جذباتی نعروں پر اقتدار میں آئے تھے، آج اپوزیشن میں ہیں۔ انہیں کم از کم اپنے عہدے کالاج تورکھنا چاہئے !انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بلاوجہ سوال اٹھا رہی ہے، جبکہ اصل فیصلہ ہائی کمان ہی کرے گا۔ریاستی سیاست میں ناٹی مرغی سے شروع ہونے والی یہ لفظی جنگ اب قیادت کی بحث تک پہنچ گئی ہے اور دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔