بنگلور۔26مارچ (سالارنےوز)گورنر نے ریاستی حکومت کے اہم ترےن پروجےکٹ گریٹر بنگلورو ایڈمنسٹریشن بل کو دستخط کیے بغیر واپس کر دیا ہے۔ یہ حکومت کے لئے ایک اور دھچکا ہے۔ ریاستی حکومت بروہت بنگلورمہانگرپالےکے (بی بی اےم پی)کوتقسےم کرتے ہوئے گریٹر بنگلورو میونسپل اےڈمنسٹرےٹےو بل کو نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ یہ بل قانون سازاسمبلی اورقانون سازکونسل میں منظور کیا گیا اور منظوری کے لئے گورنر کے پاس بھیجا گیاتھا۔ فی الحال گورنر نے اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ےہ جانکاری خود ریاستی قانون اور پارلیمانی امور کے وزیر ایچ کے پاٹل نے دی ہے۔ گورنر نے ا س بل سے متعلق کچھ وضاحتیںطلب کرتے ہوئے واپس بھیج دی ہیں۔ وزیر نے کہا کہ وضاحت کے بعد انہیں بل دوبارہ بھیجا جائے گا۔ شہر کی آبادی تقریباً 1.5 کروڑ ہے۔ بنگلورو 786 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا شہر ہے۔ اس کا انتظام میئر اور کمشنر کے ذریعہ نہیں کیا جا سکتا۔ انتظامےہ قابو میں نہیں آرہاہے۔ کارپوریشن میں بڑے پیمانہ پر بدعنوانی ہے ۔شفافیت اور مو¿ثر حکمرانی کے پیش نظر اقتدار کی لامرکزےت ضروری ہوگئی ہے۔ اس لئے کرناٹک حکومت کا خیال ہے کہ گریٹر بنگلور ایڈمنسٹریشن بل کی ضرورت ہے۔ قانون ساز اسمبلی کی مشترکہ جائزہ کمیٹی کی سفارش کے مطابق ، ایوان نے ”گریٹر بنگلورو ایڈمنسٹریشن بل۔2024“ منظور کیا ، جو مو¿ثر حکمرانی اور شفافیت کے لئے موجودہ بی بی ایم پی کو دو حصوں میں تقسیم کرکے کئی چھوٹے کارپوریشنوں کی تشکیل کا بندوبست کرتا ہے۔گریٹر بنگلور ایڈمنسٹریشن بل میں 74 ویں ترمیم متاثر نہیں ہوگی۔ یہ بل بنگلورو کے مستقبل کے لئے کلےد ہے۔ بنگلورو کی تیز رفتار ترقی کی وجہ سے کارپوریشن کمشنر اور چیف انجینئر کے لئے انتظام کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس لئے ہم نے اس بل میں 7 منسپل بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم نے یہ تجویز مستقبل کے مفاد میں پیش کی ہے۔ مقامی سطح پر مقامی اراکےن اسمبلی کا کنٹرول ہونا چاہئے ، وارڈ کمیٹیاں ہونی چاہئیں ، عوامی نمائندے ہونے چاہئیں۔ تمام رکن پارلےمان اور اراکےن اسمبلی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ وزیر اعلیٰ اس کے صدر ہوں گے۔ ضلع کے انچارج وزیر نائب صدر ہوں گے۔ ہم بی بی اےم پی مےںکچھ بھی تبدیل نہیں کریں گے۔