urdu news today live

”جب باڑہی کھےت کوکھائے تورکھوالی کون کرے“
بہارمےں الےکشن کمےشن کے فےصلہ پردنےش گنڈوراﺅکاطنز
بنگلور۔8جولائی (سالارنےوز)رےاستی وزےرصحت وبہبودی خاندان دنےش گنڈوراﺅنے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ الیکشن کمیشن آف انڈےاکو اےک آزاد شفاف اور غیر جانبداری ادارہ کے طورپر کام کرنا ہے،مگراےسا نہےں ہورہا ہے، حالےہ دنوں میں دےکھاجارہاہے کہ الےکشن کمےشن بی جے پی کے ماتحت اداروں کی طرح کام کر رہا ہے۔ بر وزمنگل دنےش گنڈوراﺅنے اپنے اےک ٹوائٹ پےغام مےں کہاکہ بہار میںجہاں انتخابات کا موقع ہے،وہاں کمیشن نے ووٹر لسٹ کی جانچ کاطرےقہ کارایک خاص اورمشکوک کااندازکابناےاہے۔ یہ بہار کے ووٹروں کی ایک بڑی تعداد کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ کمیشن نے مہاراشٹر کے انتخابات میں بھی ایسا ہی مشکوک فیصلہ کےا تھا۔ چند مہینوں کے اندر ہونے والے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے درمیان اچانک 41 لاکھ ووٹر شامل ہو گئے۔ کمیشن نے مہاراشٹرا میں ووٹروں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ کیا تھا، اب وہ نظر ثانی کے بہانہ بہار میں ووٹروں کی بڑی تعداد کو ان کے حقوق سے محروم کرنے جا رہا ہے۔ کمیشن کے ایسے نامعقول فیصلوں سے فائدہ کس کو ہوتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اگر کمیشن بذات خود کسی پارٹی سے وابستہ ہو کر ناانصافی کی راہ پر گامزن ہو تو یہ ”جب باڑہی کھےت کوکھائے تورکھوالی کون کرے“ کے مترادف ہے۔ کم از کم ایک اور۔ کمیشن کو اپنی ساکھ برقرار رکھنے دیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *