فروری کے دوسرے ہفتہ میں بنگلورو کے بلدی انتخابات ممکن
حکومت کی طرف سے سپریم کور ٹ میں حلف نامہ کے بعد اب ٹالنا نا ممکن: عبدالواجد
بنگلورو۔4 اگست (سالار نیوز)ریاستی حکومت نے پےر کے روز سپریم کورٹ میں دائر کئے گئے ایک حلف نامہ میں یقین دلایا ہے کہ گریٹر بنگلورو اتھارٹی کے تحت بننے والے بلدی اداروں کےلئے انتخابات اگلے سال فروری کے دوران کروادئےے جائیں گے۔ پےر کے روز سپریم کورٹ میں اس معاملہ میں کانگریس لےڈر عبدالواجد و دیگر کی طرف سے دائر کی گئی عرضی کی سماعت کے دوران ریاستی حکومت کی طرف سے تاریخوں کی صراحت کے ساتھ حلف نامہ دائر کیا گیا۔ عبدالواجد نے ’سالار ‘ کو بتایا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے جو حلف نامہ دائر کیا گیا ہے اس میںکہا گیا ہے کہ گریٹر بنگلورو کے تحت پانچ کارپوریشن قائم کرنے کا عبوری نوٹی فکیشن 19جولائی کو جاری کیا گیا ہے اور اس پر عوامی اعتراضات کےلئے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ 19 اگست سے یکم ستمبر تک ان اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا جس کے فوری بعد پانچ کارپوریشنوں سے متعلق قطعی نوٹی فکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے دائر حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ پانچوں کارپوریشنوں میں وارڈوں کی تازہ حد بندی کا نوٹی فکیشن ےکم نومبر کو جاری کر دیا جائے گا ۔ اسی کے ساتھ وارڈوں کے ریزرویشن کا کام بھی 30نومبر تک پورا کر لیا جائے گا ۔ اس کے بعد وارڈوں کی بنیاد پر ووٹر لسٹوں پر نظر ثانی کا کام اسی مدت کے دوران انجام دیا جائے گا۔ چونکہ انتخابات کے انتظامات کرنے کےلئے ریاستی الیکشن کمیشن کو کم از کم 45دنوں کا وقفہ درکار ہے ریاستی حکومت نے بتایا ہے کہ انتخابات سے پہلے کے سارے عوامل یکم جنوری 2026تک مکمل ہو جائیں گے اور اس کے بعد 45دنوں کے اندر ریاستی الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات کروائے جائیں گے۔ 30نومبر کے فوری بعد انتخابات کا عمل مکمل کرنا الیکشن کمیشن کےلئے ممکن نہیں اس کےلئے وقت لگے گا ۔ ووٹرلسٹوں کا جائزہ لےنے میں کافی دن لگےں گے ۔ وارڈوں کی سطح پر ووٹرلسٹوں کی ترتیب دینی پڑے گی اس کےلئے کم از کم دو ماہ کا وقت لگے گا ۔ اس کام کے پورا ہوجانے کے بعد انتخابات کی تاریخ کا اعلان سہولت کے حساب سے کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔ عبدالواجد نے اس حلف نامہ کے حوالے سے بتایاکہ حکومت کی طرف سے جو تاریخیں بتائی گئی ہیں ان کے مطابق امکان ہے کہ انتخابات فروری کے دوسرے یا تیسرے ہفتہ کے دوران کروائے جاسکیں گے۔ حکومت اگر چاہے تو انتخابات جلد بھی کروائی جا سکتی ہے۔ لیکن ہر عمل کےلئے قانون کے تحت جو میعاد مقرر کی گئی ہے اس کے مطابق بھی فروری کے دوران انتخابات کروانے لازمی ہوں گے ۔ اس شبہ پر کہ کیا ایک بار پھر انتخابات کو ٹالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار انتخابات کو ٹالنا حکومت کےلئے نا ممکن ہے کیونکہ اس کے سپریم کور ٹ کے سامنے پہلی بار تاریخوں کے حوالوں کے ساتھ حلف نامہ دائر کیا ہے۔ اس معاملہ میں سپریم کور ٹ میں اگلی سماعت 3نومبر کو ہوگی۔