ریاست کے 1768 مدارس مےں سے 1404وقف بورڈکے تحت رجسٹرڈہےں
نصاب کی ترتےب اور مدرسہ بورڈ کی تشکیل پررپورٹ پےش کرنے کی ہداےت:محکمہ اقلےتی بہبود
بنگلور۔23اگست (سالارنےوز)ریاست کے مدارس اسلامےہ میں کنڑا زبان کو لازمی کرنے کے بارے میں کافی بحث ہو رہی ہے۔ حال ہی میں کنڑا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین پرشوتم بلیملے کے ایک بیان نے ایک تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ دریں اثنا، محکمہ اقلیتی بہبود نے قانون ساز کونسل کے رکن کے این نوین کے پوچھے گئے سوال کا جواب دیا ہے۔محکمہ نے اعدادشماربتاتے ہوئے کہاکہ ریاست کرناٹک میں کل 1768 مدارس ہیں، جن میں سے 1404 مدارس کرناٹک اسٹیٹ وقف بورڈ کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔ لیکن اس سوال پر کہ آیا ان مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کارجسٹرےشن ہورہاہے؟ اس پر ان مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کی تفصیلات دستیاب نہےں ہوتی ہےں۔ محکمہ نے اپنے جواب مےں کہاکہ مدارس کے طلبہ کی رجسٹریشن کا انتظام متعلقہ مدارس کے مقرر کردہ قواعد کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ نوین نے اپنے سوال میں پوچھا کہ مدارس میں کس قسم کی تعلیم دی جاتی ہے؟ اس کا جواب ےوں دےاگےاہے کہ ریاست میں مدارس بنیادی طور پر مذہبی تعلیم فراہم کرتے ہیں،اسی طرح ا قدار پر مبنی اور رسمی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسی طرح ےہ سوال بھی کےاگےاہے کہ ریاست کے مدارس میں کنڑازبان کو لازمی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟اس پرجواب دےتے ہوئے جانکاری فراہم کی گئی ہے کہ کرناٹک اور دیگر ریاستوں کے مدارس کادورہ کرتے ہوئے ریاست میں مدرسہ کے نصاب کی ترتےب اور مدرسہ بورڈ کی تشکیل کے بارے میں ایک مطالعہ کریں اور ایک مطالعاتی رپورٹ محکمہ کوپےش کرنے کی ہداےت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی تشکیل سے متعلق قانون کا مسودہ تیار کرے اور اسے حکومت کو پیش کرے۔ محکمہ نے کہا کہ اس ماہر کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کے بعد وہ مدارس میں فراہم کیے جانے والے نصاب اور تعلیم کا جائزہ لے گی اور کارروائی کرے گی۔ حال ہی میں مدرسہ کے اساتذہ کو کنڑا زبان سکھانے کی مہم چلائی گئی تھی۔ اس کی خوب پذیرائی ہوئی۔ یہ قدم مدارس میں عربی پڑھانے والے اساتذہ کو کنڑا زبان سکھا کر کنڑا زبان میں بات چیت کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان مدارس کوگرانٹ کتنی جاری کی گئی ہے؟اس سوال کے جواب مےں جانکاری فراہم کی گئی ہے کہ ریاست میں گزشتہ دو سال میں کل 5 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اقلیتی محکمہ نے بتایا کہ حلقہ واری گرانٹ دی گئی ہے۔