رےاست مےں دوسال کے دوران ڈےجےل گرفتاری کے
1265معاملے پےش آئے ،272کروڑوروپے لوٹے گئے
بنگلور۔23اگست (سالارنےوز)ریاست میں سائبر اور ڈیجیٹل گرفتاریاں ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ پچھلے دو سال کے دوران ڈےجےٹل گرفتارےوں کے 1265 کیس درج ہوئے ہیں اور کل 272 کروڑ کی دھوکہ دہی کی گئی ہے۔ سائبرپولےس کاکہناہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال، مالی فائدے کالالچ، ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقوں کی توسیع سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر سائبر فراڈ کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بے قصور لوگ خاص طور پر ڈیجیٹل گرفتاریوں کے ذریعے کروڑوں روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے اس حوالے سے جو اعدادوشمار دیے گئے ہیں اس نے کافی تجسس پیدا کر دیا ہے۔2024ءمےں 1055ڈےجےٹل ارےسٹ کے معاملے سامنے آئے،جس مےں سے 99معاملات حل کےے گئے جبکہ 2025ءمےں 210کےس ہوئے،جس مےں صرف 24کےس حل ہوئے۔ 2024ءمےں 243کروڑوصول کےے گئے ،جبکہ 2025ءمےں 48کروڑروپے وصول کےے گئے ۔2025ءمےں بنگلورشہرکے 137فراڈہوئے ،جس مےں 42کروڑروپے لوٹے گئے ۔مےسوشہرمےں 10فراڈکےس ہوئے اور2.19کروڑروپے لوٹے گئے ۔ہبلی دھارواڑمےں 4معاملہ پےش آئے ،اور3کروڑروپے ٹھگے ۔منگلورمےں دھوکہ دہی کے 6معاملات سامنے آئے جس مےں 47کروڑروپے لوٹے گئے ۔سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے آن لائن رجسٹریشن سسٹم، سائبر کرائم پولیس کا خصوصی یونٹ اور سائبر فرانزک لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں۔ مرکزی سطح پر رابطہ کاری اور نگرانی، سائبر پولیس افسران کی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ 2024 میں، 257 سے زیادہ افسران کو 1367 سائبر فرانزک کیسز کو سنبھالنے کے لیے تربیت دی گئی۔تاکہ اس قسم کے کےسوں کوفوری طورپرحل کرسکےں۔