امن میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف کرمینل کیس ناگزیر: سدارامیا
بنگلورو۔13ستمبر(سالار نیوز)ریاست کے کسی بھی علاقے میں امن وامان میں خلل ڈالنے کے ارادے سے اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف بلا مروت قانونی کارروائی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے بی جے پی لےڈروں پر ایف آئی آر کے اندراج کا دفاع کیا ہے۔ اخباری نمائندوں سے با ت کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے کوئی بھی قدم سیاسی انتقام کے جذبے سے نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ بی جے پی کے رہنما ہر دن ایک نیا اشتعال انگیزبیا ن دے کر ریاست میں امن وامان کی فضا کو مکدر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اس پر روک لگانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے ان کے خلاف مقدمے درج کئے گئے ہیں۔اس سوال پر کہ کیا کرمینل کیس داخل کر کے ہندو لےڈروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نفرت کسی بھی حلقہ سے پھےلانے کی کوشش کی جائے اسے برداشت نہیں کیاجائے گا۔ میسورکے سابق رکن پارلیمنٹ پرتاپ سمہا کو اشتعال انگیزی کرنے کےلئے دسہرہ تہوار تک میسور بدرکر دینے مختلف ترقی پسند تنظیموں کی مانگ پر انہوں نے کہا کہ حکومت اس پر سنجیدگی سے غورکرے گی۔دسہرہ تہوار کا افتتاح کرنے کےلئے معروف کنڑا ادیبہ بکر انعام یافتہ بانو مشتاق کو مدعو کئے جانے کے خلاف ہائی کورٹ میں مفاد عامہ عرضی کے بارے میں ایک سوال پر سدارامیا نے کہا کہ عدالت میں سماعت کے دوران ےہ بتانا پڑے گا کہ کن وجوہات کی بنیاد پر بانو مشتاق کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس بارے میں عدالت کی طرف سے جو بھی فیصلہ آئے گا حکومت اس کا انتظار کرے گی۔انہوں نے کہا کہ دسہرہ ایک کلچرل تقریب ہے اس میں صرف مخصوص طبقہ کے لوگ ہی شامل ہوں ایسا کوئی ضابطہ نہیں ہے۔دھرمستھلا معاملہ کی جانچ کے بارے میںایک سوال پر سدارامیا نے کہا کہ اس معاملہ کی جانچ ایس آئی ٹی کی طرف سے پوری دیانتداری کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جانچ میں غیر ضروری تاخیر کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ سماجی ،معاشی وتعلیمی سروے سے نئی نئی ذاتوں کے سامنے آجانے کے بارے میں بی جے پی کے خدشات کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ےہ بے معنی ہیں ۔مرکزی حکومت کی طرف سے بھی ذات پات مردم شماری کا اعلان کیا گیا ہے بی جے پی پہلے اس کی مخالفت کرنے کی جرا¿ت دکھائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے تبدیلی مذہب نہ کرنے کےلئے اصرار کے بعد بھی سماجی برائیوں کے نتیجے میں تبدیلی مذہب کا سلسلہ جاری ہے۔ سماج میں موجود عدم مساوات تبدیلی مذہب کی اصل وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی مذہب کے وابستہ لوگ اگر ظلم اور عدم مساوات کا شکار ہیں تو ان کو تبدیلی مذہب سے روکا نہیں جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی سماجی ومعاشی سروے کے مذہب کے کالم میں وہی مذہب درج کیا جائے گا جس پر اب قائم ہیں۔ وزیر اعظم مودی کے دورہ منی پورکو اپوزیشن کی بڑی جیت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر مودی کو اپنے طور پر منی پور کا دور ہ کرنا تھا تو دوسال سے کیوں خاموش تھے۔مہا دائی پر بنائے جا رہے کلسا بنڈوری کینال کی تعمیر اور آلمٹی ڈیم کی اونچائی میں اضافہ کرنے کی بی جے پی کے وزرائے اعلیٰ کی طرف سے مخالفت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 15سال قبل ہی عدالت نے اس کےلئے اجازت دے دی ہے۔ پھر بھی مہاراشٹرا حکومت اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاویری پر مےکے داٹو ڈیم کی تعمیر کےلئے مرکزی حکومت کی طرف سے اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ریاست کے آب پاشی منصوبوں میں آگے بڑھنے میں مرکزی حکومت کی طرف سے غیر ضروری رکاوٹیں بار بار کھڑی کی جا رہی ہیں۔ہاسن میں گنیش جلوس کے دوران ہوئے سڑک حادثہ میں جانی نقصان پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کےلئے حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا نا غلط ہے۔بی جے پی کی طرف سے مہلوکین کے ورثاءکو دس لاکھ روپے کے معاوضہ کی مانگ پر سدارامیا نے سوال کیا کہ بی جے پی کے دور حکومت میں کتنا معاوضہ دیا گیا ؟پہلے ےہ جواب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پہلے ہی معاوضہ کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ضلع انچارج وزیر کرشنا بائرے گوڑا ہاسن ضلع پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے جائے وقوعہ کا بھی معائنہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سڑک حادثہ کےلئے کیسے ریاستی حکومت کوذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔