ستمبر سے شروع ہو سکتا ہے کرناٹک میں ایس آئی آر
بنگلورو۔18ستمبر (سالار نیوز) دو دہائیوں سے زیادہ کے بعد، کرناٹک اپنی انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے گزرنے والا ہے، الیکشن کمیشن 25 ستمبر تک اس مہم کو شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ریاست میں پچھلی بار ایس آئی آر 2002 میں کیا گیا تھا۔ اس وقت کرناٹک میں تقریبا 3.5 کروڑ رجسٹرڈ ووٹر تھے۔ یہ تعداد اب تقریبا 5.5 کروڑ تک بڑھنے کا اندازہ ہے۔ الیکشن کمیشن اس مشق کےلئے صحیح تاریخوں کے بارے میں مطلع کرے گا، جو نوٹیفکیشن کے باہر ہونے کے بعد تین ماہ کے اندر مکمل ہونا ضروری ہے۔نظرثانی پانچ مرحلوں میں کی جائے گی، جس میں دعووں اور اعتراضات کی سماعت کا ایک اہم وقت شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایک بار الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز پہلے سے بھرے ہوئے اندراج فارم کو ڈاو¿ن لوڈ کر لیتے ہیں، بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل اوز) گھر گھر جا کر فارم کی دو کاپیاں گھرانوں میں تقسیم کریں گے۔اس مشق کے دوران، فارم 6 (نئے ووٹرز)، فارم 7 (اعتراضات)اور فارم 8 (تصحیح) سے متعلق تمام کارروائیوں کو منجمد کردیا جائے گا۔ انرولمنٹ فارم کی ایک کاپی بی ایل اوکے پاس رہے گی، جبکہ دوسری، ایک سرکاری اقرار کے ساتھ، درخواست گزار کے پاس رہے گی۔ شہریوں کے پاس بی ایل اوایپ یا الیکشن کمیشن نیٹ پورٹل کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر عمل مکمل کرنے کا اختیار بھی ہوگا۔الیکشن کمیشن نے اس موضوع پر سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی ہے اور ان سے تعاون طلب کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے بوتھ لیول ایجنٹس ، رضاکار بھی اس عمل میں شامل ہوں گے۔کمیشن کے ذرائع نے کہا کہ مشق کے پیچھے اصول یہ ہے کہ کوئی اہل ووٹر نہیں چھوٹے، جبکہ کوئی نااہل ووٹر شاملنہ ہو ۔تاہم، دستاویزات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، خاص طور پر بزرگ شہریوںکےلئے جن کے پاس تمام مطلوبہ کاغذات نہیں ہیں۔ ایسے معاملات میں، معاملہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کے پاس بڑھایا جائے گا، جس میں ڈسٹرکٹ الیکٹورل آفیسر کے پاس شمولیت کے فیصلوں کا حتمی اختیار ہوگا۔