urdu news today live

آر ایس ایس کو بے نقاب کرنے پرینک کھرگے کی جرا¿ت مندی کو سلام
ریاست کے مسلمان اور تمام اقلیتی وپسماندہ طبقات اس مہم میں ان کے ساتھ ہیں: نصیر احمد
بنگلورو۔17 اکتوبر(رضوان اللہ خان،چیف رپورٹر)ریاست میں آر ایس ایس کو بے نقاب کرنے کےلئے ریاستی وزیر پرینک کھرگے کی طرف سے جو تحریک شروع کی گئی ہے اس کا ریاستی اقلیتی طبقہ مکمل طور پر حماےت کرے گا۔ ان کو دھمکیا ںدینے اور ان کو ڈرانے کےلئے آر ایس ایس اور اس کے ہمدردوں کی طرف سے جو کوشش کی جا رہی ہے اس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ ےہ بات وزیر اعلیٰ کے سیاسی سکریٹری اور رکن کونسل نصیر احمد نے کہی۔ ’سالار ‘ کے نمائندے سے ایک خصوصی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ جس طرح ایک ریاستی وزیر اور آر ایس ایس کے کارندے کھلے عام دھمکیاں دے رہے ہیں اور ڈرا نے کی کوشش کر رہے ہیں اس کے بعد ےہ خدشہ پےدا ہو گیا ہے کہ اس ملک میں قانون اورنظم وضبظ کا راج ہے یا غنڈہ گردی کا ۔ ایک وزیر جو ریاست کا سینئر اورتجربہ کار سیاستدان ہے اس کو نشانہ بنانے کی کوشش سے سوال اٹھتا ہے کہ اس ملک میں بولنے کی آزادی ہے یانہیں۔ اس طرح کی حرکتیں ہرگز قابل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری مقامات ،پارک، اسکولوں کے میدانوں میں شاکھا چلانا کہاں تک درست ہے۔ ایک ایسی تنظیم جو رجسٹرڈبھی نہیں ہے اس کی اس قد رپذیرائی کہاں تک درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اس ملک میں کئی بار ممنوع قر ار دی جا چکی ہے۔ سب سے پہلے سردار پٹےل نے پابندی لگائی ۔ جب بابری مسجد کی شہادت ہوئی اس کے بعد بھی اس پر پابندی لگادی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی تنظےم اس ملک کے آئین او ر قانون سے بالا تر نہیں ہو سکتی۔ جس طرح آر ایس ایس سرکاری اسکولوں اور کالجو ں کے میدانوں سرکاری دفاتر کے احاطوں اوردیگر مقامات پر من مانی سے اپنی سرگرمیاں چلاتی ہے اس طرح سے آخر کب تک چلنے دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کی ان سرگرمیوں سے سماج کے ان طبقو ں سے وابستہ نوجوانو ںکے دماغوں میں نفرت کا زہر بھرا جا رہا ہے جو غریب اور پسماندہ ہیں ان کو ہندوتوا کے نام پر بھڑ کا کر ان کو شرپھیلانے کےلئے استعمال کیا جاتا ہے اور جب پکڑے جاتے ہیں تو ان کو قربانی کا بکرا بنادیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تملناڈو نے باضابطہ حکم نامہ جاری کیا ہے کہ سرکاری املاک اور مذہبی مقامات کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں بی جے پی کی طرف سے بدنام کرنے کی جو مہم چلائی جا رہی ہے وہ درست نہیں ہے۔ نصیر احمد نے کہا کہ آر ایس ایس کی ےہ تاریخ ہے کہ اس تنظیم کے امور پر ایک مخصوص طبقہ کی اجارہ داری ہے۔ اس کے بارے میں اہندا طبقات کے لوگوں میں بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کو اگر ملک کے قانون اور آئین کا اتنا ہی احترام ہے تو اس کو رجسٹر کروانا چاہئے تھا۔سو سال پرانی اس تنظیم کو جوابدہی کا احساس ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کو ےہ سمجھ لینا چاہئے کہ پرےنک کھرگے تنہا نہیں ہیں۔ اقلیتی ،پسماندہ طبقات ان کے ساتھ ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *