کرناٹک میں سماجی و تعلیمی سروے کی مدت 31 اکتوبر تک بڑھا دی گئی
دیوالی پر سروے عملے کو تین دن کی چھٹی، 23 اکتوبر سے دوبارہ آغاز
بنگلور۔19اکتوبر(سالارنےوز)ریاست میں جاری سماجی و تعلیمی سروے کو 31 اکتوبر تک بڑھانے کا فیصلہ وزیراعلیٰ کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا ہے، یہ بات کنڑا و ثقافت اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے وزیر، شیو راج ایس تنگڈگی نے بتائی۔بروزاتوار وزیراعلیٰ سدارامےاکی رہائش گاہ ”کرشنا“ میں منعقدہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سروے کے باقی 9 دن کے دوران اساتذہ کو اس کام میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سروے عملہ کے لیے تین دن کی چھٹی دی گئی ہے ۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر دیوالی کے موقع پر 20، 21 اور 22 اکتوبر کو سروے میں شامل اہلکاروں کو چھٹی دی گئی ہے۔ 23 اکتوبر سے دوبارہ سروے شروع ہوگا۔ ضلع افسران اپنے اپنے اضلاع میں مختلف محکموں کے عملے کو استعمال کرتے ہوئے 23 تا 31 اکتوبر کے درمیان سروے مکمل کریں گے۔گریٹر بنگلور کے علاوہ ریاست بھر میں 95 فیصد سروے مکمل ہوچکا ہے۔ رام نگر میں 86 فیصد، دھارواڑ میں 88 فیصد اور بیدر میں 79.46 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔ بنگلور میں صرف 45 فیصد سروے ہوا ہے کیونکہ وہاں یہ عمل تاخیر سے شروع ہوا۔ کچھ اضلاع میں سروے مکمل ہوچکا ہے، جبکہ باقی اضلاع میں یہ 31 اکتوبر تک جاری رہے گا۔عوامی آگاہی کے لیے ارکان اسمبلی کو ہدایت دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے بنگلور کے عوام میں سماجی و تعلیمی سروے کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے ارکان اسمبلی کو ہدایت دینے کا حکم دیا ہے، اور اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کے دفتر سے ہدایات جاری کی جائیں گی۔انفوسس کی سدھا مورتی کے اس بیان پر کہ وہ سروے میں حصہ نہیں لیں گی، وزیر نے کہا کہ وہ ایک سماجی طور پر ذمہ دار شخصیت ہیں۔ انہیں اس بارے میں مناسب معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔ حکومت جو سروے کر رہی ہے وہ سماجی اور تعلیمی سروے ہے جس سے ریاست کے ہر طبقے کی سماجی، معاشی، تعلیمی اور صنعتی صورتحال کی معلومات حاصل ہوں گی۔ یہ صرف پسماندہ طبقات، ایس سی یا ایس ٹی برادری تک محدود نہیں ہے۔ لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔میڈیا کے ایک سوال پر کہ دھارواڑ میں سروے کی شرح کم ہونے کی سیاسی وجوہات تو نہیں؟ وزیر نے کہا کہ مقامی رکن پارلیمان اور مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے خود کہا کہ وہ سروے میں حصہ نہیں لیں گے اور عوام سے بھی ایسا ہی کرنے کو کہا۔ یہ رویہ درست نہیں ہے۔ ایسے ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کو وقار کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو کیا ہم مستقبل میں مرکزی حکومت کی مردم شماری کی مخالفت کریں گے؟ عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ اسمیٹنگ میں وزراء کے جے جارج، شیوراج تنگڈگی، رام لنگا ریڈی، بائرتی سریش، کرناٹک ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کے چیئرمین مدھوسدھن آر نائک، وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر نصیر احمد، اقتصادی مشیر بسوراج راےا ریڈی، چیف سکریٹری شالنی رجنیش اور ایڈیشنل چیف سکریٹری انج±م پرویز سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اپنے دروازے پر نیوز پیپر حاصل کریں
SALAR URDU DAILY
GET NEWSPAPER AT YOUR DOOR STEP
интернет
[url=https://vodkabet.kz/]vodkabet прямо сейчас [/url]
whoah this blog is great i like reading your posts. Keep up the great work! You already know, many individuals are hunting round for this info, you can aid them greatly.
Call-girls Brasilia
Hello, Neat post. There’s an issue along with your site in web explorer, could test thisK IE nonetheless is the marketplace leader and a large part of other folks will leave out your fantastic writing because of this problem.