دیوالی کے پیش نظر ذات پرمبنی سروے پر 23 اکتوبر تک عارضی طور پر روک
85 فیصد گھروں کا سروے مکمل،بنگلورمےں صرف45فےصد۔ باقی کے لئے 31 اکتوبرتک آن لائن موقع
بنگلور۔ 19 اکتوبر (سالارنےوز)ریاستی حکومت کے سماجی و تعلیمی سروے (ذات پر مبنی مردم شماری) حالانکہ ہفتے کے روز باضابطہ طور پر مکمل ہو گیا ہے، تاہم حکومت مقررہ مدت کے اندر سروے مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔اس سروے کے دوران ریاست بھر میں تقریباً 85 فیصد گھروں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ تاہم جو گھرانے سروے میں شامل نہیں ہو سکے، وہ 31 اکتوبر تک آن لائن کے ذریعے اپنی تفصیلات جمع کروا سکتے ہیں۔ ریاست میں 85 فیصد تک سروے مکمل کےے جانے کی اطلاع ہے،جس مےں بنگلورو پیچھے رہ گےاہے۔کرناٹک ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کے رکن و سکریٹری کے اے دیانند کے مطابق ریاست کے 1.9 کروڑ گھروں میں سے تقریباً 85 فیصد گھروں کو سروے کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ کے دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی رسائی تقریباً 76 فیصد رہی ہے۔ سی ایم او کے مطابق، 1.9 کروڑ کے ہدف میں سے 1.6 کروڑ گھروں کا سروے مکمل ہو چکا ہے۔گریٹر بنگلورو کے دائرہ کار میں 39.8 لاکھ گھروں کے ہدف میں سے صرف 17.8 لاکھ گھروں کا ہی سروے کیا گیا ہے، یعنی صرف 45 فیصد کام مکمل ہوا ہے۔ دوسری طرف، ٹمکور، چکمگلور اور منڈیا جیسے اضلاع میں سروے تیزی سے مکمل ہوا ہے، جب کہ بنگلورو شہر، یادگیر اور کلبرگی پیچھے رہ گئے ہیں۔افسران کے مطابق، شہری علاقوں میں رہائشیوں کے مصروف اوقات، عدم تعاون اور کثیر منزلہ عمارتوں میں داخلے کی دشواریوں کے باعث سروے میں تاخیر ہوئی ہے۔کے اے دیانند نے بتایا کہ اتوار شام تک سروے میں مصروف اساتذہ اپنا کام مکمل کر کے رپورٹ متعلقہ افسران کو جمع کرائیں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو اساتذہ اتوار کے دن باقی ڈیٹا کی تصدیق کے لئے گھر گھر جا کر معلومات جمع کر سکتے ہیں۔ تاہم جو خاندان رہ گئے ہیں وہ 31 اکتوبر تک آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنی تفصیلات جمع کرا سکتے ہیں۔نگران افسران رسمی کارروائیاں مکمل کریں گے اور ضلع سطح پر یہ عمل 31 اکتوبر تک ختم ہو جائے گا۔یہ وسیع پیمانے کا سروے، جو کرناٹک اسٹیٹ کمیشن فار بیک ورڈ کلاسز نے کیا، پہلے 7 اکتوبر کو ختم ہونا تھا، مگر بنگلورو میں تاخیر کی وجہ سے اسے 18 اکتوبر تک بڑھایا گیا۔ حکومت نے سروے میں مصروف اساتذہ کی سہولت کے لئے سرکاری و امدادی اسکولوں کی دسہرہ کی چھٹی 18 اکتوبر تک بڑھا دی تھی۔صرف بنگلورو میں تقریباً 6,700 اساتذہ کو تعینات کیا گیا تھا۔ کچھ علاقوں میں عوام کی جانب سے مزاحمت بھی دیکھنے میں آئی۔ انفو سِس کے بانی این آر نارائن مورتی اور رکنِ پارلیمان سدھا مورتی نے کہا کہ وہ پسماندہ طبقات سے تعلق نہیں رکھتے، اس لئے انہوں نے سروے میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔وزیراعلیٰ سدارمیا نے ان کے اس فیصلے پر تنقید کی، جبکہ نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ سروے میں حصہ لینا رضاکارانہ ہے۔