urdu news today live

چتتاپور میں آر ایس ایس جلوس کی اجازت مسترد
ہائی کورٹ نے نئی درخواست داخل کرنے کی ہدایت دی
بنگلور۔ 19 اکتوبر (سالارنےوز)کلبرگی کے چتتاپور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے پتھ سنچلن (جلوس) کی اجازت سے انکار کے خلاف دائر عرضی پر آج کلبرگی ہائی کورٹ بینچ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے عرضی گزاروں کو ہدایت دی کہ وہ جلوس کے مجوزہ راستے کی مکمل تفصیلات کے ساتھ دوبارہ ڈپٹی کمشنر کو نئی درخواست پیش کریں۔ عدالت نے حکومت کو بھی ہدایت دی کہ وہ اس درخواست پر قانون کے مطابق غور کرے اور رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ سماعت اب 24 اکتوبر دوپہر 2:30 بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔عدالت نے کہاکہ ایک دن دو ریلیوں کی اجازت مناسب نہیں۔اتوار کے روز چتتاپور میں آر ایس ایس کے پتھ سنچلن کے ساتھ ساتھ دلت تنظیموں کی احتجاجی ریلی بھی طے تھی۔ تاہم عدالت نے امن و امان کے پیشِ نظر دونوں تنظیموں کو ایک ہی دن ریلی نکالنے کی اجازت نہ دینے کی ہدایت دی۔چتتاپور کے تعلقہ ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے آر ایس ایس کے جلوس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے خلاف آر ایس ایس نے رِٹ پٹیشن دائر کی تھی۔ جسٹس ایم جی ایس کمل پر مشتمل کلبرگی ہائی کورٹ بینچ نے اس معاملے پر فوری سماعت کرتے ہوئے یہ عبوری حکم جاری کیا۔سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ قانون و امن و امان کے تحفظ کے نقطہ نظر سے، مختلف تنظیموں کو ایک ہی دن، ایک ہی مقام اور ایک ہی راستے پر ریلی نکالنے کی اجازت دینا مناسب نہیں۔عدالت نے اس دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی کہ دونوں تنظیموں کے جلوس کے لئے علیحدہ تاریخیں مقرر کی جائیں۔آر ایس ایس کی جانب سے کلبرگی ضلع کے لےڈر اشوک پاٹل کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل ارون شیام نے دلائل پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ:ہم نے 13 اکتوبر کو ہی پولیس کو مطلع کیا تھا اور 17 اکتوبر کو ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کو باضابطہ درخواست دی تھی، لیکن آخری لمحات میں (ہفتہ کے دن) اجازت سے انکار کر دیا گیا۔عدالت نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ:اگر جلوس بغیر کسی نعرے یا اشتعال انگیزی کے پ±رامن طور پر نکالا جا رہا ہو، تو کیا اجازت لازمی ہے؟ کس قانون کے تحت ایسی اجازت درکار ہے؟اس پر وکیل نے وضاحت دی کہ اس نوعیت کے معاملات کے لئے کوئی واضح قانونی ضابطہ موجود نہیں۔سرکاری فریق نے بتایا کہ اسی روز بھیم آرمی اور دلت سنگھرش سمیتی جیسی تنظیموں نے بھی احتجاجی ریلی کی اجازت مانگی تھی، جس کے باعث انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر تمام ریلیوں پر پابندی عائد کر دی۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ دونوں تنظیموں کے لئے مختلف تاریخیں مقرر کی جائیں۔ سماعت کے دوران آر ایس ایس نے 2 نومبر کو جلوس نکالنے پر آمادگی ظاہر کی۔ عدالت نے عرضی گزار کے اس بیان کو ریکارڈ پر لے لیا کہ ہم نے ریاست بھر میں 250 سے زیادہ پ±رامن پتھ سنچلن منعقد کیے ہیں، اور کہیں بھی امن میں خلل نہیں پڑا۔عدالت نے ہدایت دی کہ انتظامیہ نئی درخواست پر کارروائی کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ معاملے کی اگلی سماعت 24 اکتوبر کو دوپہر 2:30 بجے ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *