urdu news today live

ًبنگلور۔15مارچ (سالارنےوز)رےاستی خزانہ کوبھرنے کے لئے وسائل آمدنی کو اکٹھا کرنے کے سلسلہ میں مختلف اقدامات کےے جارہے ہےں۔ ان مےں غےرمجازجائیدادکوٹےکس کے دائرہ کارمےں لانے کا منصوبہ بنایا گیاہے۔اس پس منظرمےں ریاست بھر میں گرام پنچایت کے دائرہ اختیار میںآنے والے غیر مجاز جائیدادوں کو بی۔کھاتہ دے کرجائیدادٹےکس کے دائرہ مےں لانے کے ذرےعہ پنچایتوں کو سالانہ ہزاروں کروڑ روپئے ٹےکس جمع کرنے کاموقع فراہم کرنے والے کرناٹک گرام سوراج اور پنچایت راج (ترمیم) بل ، 2025 کو ریاستی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ سدارامیا کی صدارت میں کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ حکومت نے دیہی علاقوں میں غیر مجاز لے آو¿ٹ ، سائٹس اور عمارتوں کوبی۔کھاتہ دے کر پراپرٹی ٹیکس کے دائرہ میں لانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ےہ بی بی ایم پی سمیت شہری بلدیاتی اداروں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ غیر مجاز کالونےوں کی تشکےل کو روکنے کے لیے جون 2013 میں ای۔پراپرٹی سافٹ ویئر متعارف کرایا گیا تھا۔ 15 جون سے لاگو ہونے والے پنچ تنتر سافٹ ویئر میں 1.40 کروڑ جائیدادوں کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ تاہم ، صرف 40 لاکھ جائیدادیں ای۔پراپرٹی سافٹ ویئر میں درج کی گئی ہیں اور باقی 96 لاکھ جائیدادیں ای۔پراپرٹی کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ اس وقت ای۔پراپرٹی کے تحت آنے والی 40 لاکھ جائیدادوں میں سے 34 لاکھ جائیدادوں سے 800 کروڑ روپئے محصولات جمع کیے گئے۔ اگر بقیہ 96 لاکھ جائیدادوں کو بی۔کھاتہ مل جاتا ہے تو پنچایتوں کے لیے پراپرٹی ٹیکس میں دو تین گنا اضافہ ہو جائے گا۔اس کے علاوہ کابینہ نے کرناٹک گرام سوراج اور پنچایت راج ایکٹ میں سیکشن 199 (بی) اور 199 (سی) شامل کرکے اسی قانون ساز اجلاس میں قانون میں ترمیم بل پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

7 thoughts on “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *