دو تین مہےنوں میں ڈی کے شیو کمار ریاست کے وزیر اعلیٰ ہوں گے: اقبال حسین
بنگلورو۔29جون(سالار نیوز)کانگریس کے رکن اسمبلی ایچ اے اقبال حسین نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو اگلے دو سے تین ماہ کے اندر ریاست کا وزیراعلیٰ بننے کا موقع مل سکتا ہے۔ شیوکمار کے قریبی سمجھے جانے والے رکن اسمبلی کے یہ ریمارکس اس سال کے آخر میں کرناٹک میں قیادت کی تبدیلی کے بارے میں نئی قیاس آرائیوں کے درمیان آئے ہیں۔اقبال حسین نے رام نگر میں نامہ نگاروں سے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اس حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے کانگریس کی طاقت کیا تھی۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ اس فتح کو حاصل کرنے کےلئے کس نے جدوجہد، کی ۔شیوکمار کی حکمت عملی اور پروگرام اب تاریخ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میں قیاس آرائیوں پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمیں مکمل اعتماد ہے کہ ہائی کمان صورتحال سے باخبر ہے اور انہیں موقع دینے کے لیے مناسب وقت پر مناسب فیصلہ کریں گے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا شیوکمار، جو ریاستی کانگریس کے صدر بھی ہیں، اس سال وزیر اعلیٰ بنیں گے، حسین نے جواب دیا کہ ستمبر کے بعد کچھ لیڈران انقلابی سیاسی تبدیلی کاکا اشارہ دے رہے ہیں،یہ وہی ہے جس کے بارے میں وہ بات کر رہے ہیں۔ دو سے تین ماہ کے اندر فیصلہ ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا کے بیٹے اور کانگریس ایم ایل سی یتیندرا سدارامیا کی طرف سے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کو محض قیاس آرائیوں کے طور پر مسترد کرنے کے بارے میں پوچھا گیا توحسین نے نشاندہی کی کہ کانگریس ہائی کمان نے 2023کے اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کا فیصلہ کیا تھا۔ حکمراں کانگریس کے اندر قیادت کی تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیاں کچھ عرصہ سے برقرار ہیں، جو سدارامیا اور شیوکمار کے درمیان مبینہ طور پر اقتدار کے اشتراک کے معاہدہ سے منسلک ہیں۔ پارٹی ہائی کمان کی سخت ہدایات کے بعد اس طرح کی باتیں دم توڑ گئیں۔مئی 2023میں اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت کے بعد، مسٹر سدارامیا اور مسٹر شیوکمار کے درمیان وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے لیے سخت مقابلہ تھا۔ انقلابی سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں ریاستی وزیر راجنا کے تبصروں کا جواب دیتے ہوئے اقبال حسین نے کہا کہ ایک مستحق شخص کو موقع دینے کو انقلاب نہیں کہا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہا کہ نقلاب کا کیا مطلب ہے؟ سیاست میں تبدیلیاں عام ہوتی ہیں، وقت آنے پر اعلیٰ کمان فیصلہ کرے گی کہ کس کو ذمہ داری سونپی جائے۔ آج کے حالات میں اچھی انتظامیہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ایک موزوں شخص کو موقع ملے گا اور وہ اپنا فرض ادا کرے گا۔ تبدیلی کی توقع ہے، لیکن اسے انقلاب نہیں کہا جا سکتا۔اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ کانگریس پہلے سے ہی اقتدار میں ہے، مسٹر حسین نے دعویٰ کیا کہ اگر کوئی اور پارٹی اس حکومت کا تختہ الٹ رہی ہے، تو اسے انقلاب کہا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ حکومت مضبوط ہے اور اس کے پاس واضح اکثریت ہے۔