مےکے داٹوپروجےکٹ معاملہ مےں سےاست نہ کی جائے
مرکزی وزےراےچ ڈی کمارسوامی کورےاستی وزےراےم بی پاٹل کاپلٹ وار
بنگلور۔5جولائی (سالارنےوز)اگر میکے داٹو ڈیم پراجیکٹ کو لاگو کیا جاتا ہے تو اس سے کرناٹک اور تملناڈو دونوں رےاستوں کو مصیبت کے وقت فائدہ ہوگا۔ اس حقیقت کو سب جانتے ہیں۔ کانگریس ہوےا بی جے پی، جے ڈی ایس اس میںکسی کو سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ مرکزی وزیر ایچ ڈی کمارسوامی کو بھی یہ سمجھنا چاہئے اور تعمیری سوچ کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔ےہ باتےں رےاستی وزےربرائے بڑی و درمیانی صنعت ایم بی پاٹل نے کہےں۔ بروز ہفتہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کمارسوامی ےہ کہہ رہے ہےں کہ میکے داٹو پروجیکٹ پرعمل آوری صرف ان کے خاندان کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ تملناڈو کی سیاسی پارٹیاں بھی جانتی ہیں کہ اس پراجیکٹ کے نفاذ سے مشکل کے وقت پانی ملے گا۔ لیکن وہ سیاست کی خاطر میکے داٹو پراجیکٹ کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ اگر ہر کوئی اس طرح کے رویوں کو ترک کر دے تو یہ لوگوں کے لیے اچھا ہو گا۔اس سے پہلے بھی جب کاوےری تنازعہ سپرےم کورٹ مےں زےرسماعت آےاتواس وقت مےں آبپاشی کاوزےر تھا،ا س موقع پرہماری کوششوں کی وجہ سے رےاست کواضافی 14ٹی اےم سی پانی دستےاب ہوا۔اس کے ساتھ ہی بنگلورکے لےے بھی پےنے کے پانی کی سپلائی کاوےری استعمال کرنے کاموقع ملا۔ تمل ناڈو نے دلیل دی تھی کہ ہمارے دارالحکومت کا دو تہائی حصہ کاویری طاس سے باہر ہے۔ پھر ہمیں انہیں یاد دلانا پڑا کہ کرناٹک، آندھرا پردیش اور مہاراشٹر نے چنئی کی پینے کے پانی کی ضروریات کے لیے کرشنا طاس سے 15 ٹی اےم سی پانی چھوڑ دیا ہے۔ اس معاملہ مےں ہمارے وکےل اےف اےس نارےمن نے عدالت مےں موثرطرےقہ سے پےروی کی ۔اےم بی پاٹل نے کہا کہ اب مےکے داٹومنصوبے سے متعلق کسی احتجاج ےاتحرےک کاسوال ہی پےدانہےں ہوتا۔کمارسوامی اب مرکزی کابےنہ مےں ہے۔وہ اب اچھی طرےقہ سے رےاست کی مددکرنے کاموقع رکھتے ہےں۔اس طرف ہم تمام کی توجہ ہوناچاہئے ،اس کی بجائے معمولی باتوںپرسےاست نہےں کرنی چاہئے ۔دےونہلی مےں کسانوں کی زمےن کی تحوےل کے تنازعہ پرپوچھے گئے سوال پراےم بی پاٹل نے کہاکہ زراعت اورصنعت دونوں شعبوں کو ساتھ لے جانے کی ضرورت ہے۔اس ضمن مےں اب تک چارپانچ اہم اجلاس کےے گئے ہےں۔وزےراعلیٰ سدارامےانے بھی جمعہ کے روز ان کسانوں کے ساتھ مےٹنگ کی ہے۔جس مےں کسانوں سے دس روزتک مہلت مانگی ہے،اس مےں قانونی رکاوٹےں ہےں ،ان قانونی امورکو پہلے کرناہوگا۔اس کے ساتھ متاثرہ کسانوںکومناسب ومعقول معاوضہ دےے جانے کی ضرورت ہے۔