urdu news today live

کرناٹک: چکا تروپتی مندر کا پرساد کھا کر 50سے زائد عقیدتمند ہوئے بیمار، 30افراد کا اسپتال میں علاج جاری
ہاسن۔15 جولائی(ایجنسی)کرناٹک کے چِکا تروپتی مندر میں پرساد کھانے سے درجنوں افراد بیمار ہو گئے ہیں۔ یہ معاملہ اتوار کا ہے، لیکن اب سرخیوں میں آیا ہے۔ اتوار کے روز مندر کا پرساد کھانے کے بعد 50 سے زائد عقیدتمند بیمار پڑ گئے تھے، جن میں سے تقریباً 30افراد کا علاج اب بھی اسپتال میں جاری ہے۔واقعہ ہاسن ضلع کے مالیکل تروپتی گاوں واقع ونکٹیشور سوامی مندر کا ہے۔ یہ مندر چکا تروپتی کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں میلہ لگا ہوا تھا جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی تھی۔ اسی دوران ایک پرائیویٹ ادارہ نے عقیدتمندوں کو دہی اور گرمی پانی کا پرساد تقسیم کیا۔ اتوار کی شام تقریباً 7.30بجے اس پرساد کی تقسیم شروع ہوئی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً ڈیڑھ ہزار لوگوں کو یہ پرساد دیا گیا تھا۔ اس پرساد کو کھانے کے بعد اگلے دن پیر کو 50سے زائد لوگ بیمار ہو گئے۔ انھیں پیٹ درد اور الٹی شروع ہو گئی۔ بیمار لوگوں کے علاج کے لیے ارسیکیرے تعلقہ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ بیمار ہوئے لوگوں میں سے 30لوگوں کا علاج چل رہا ہے، جبکہ 20افراد ٹھیک ہو کر گھر واپس چلے گئے ہیں۔تعلقہ انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تقسیم کیے گئے پرساد کا نمونہ حاصل کر جانچ کے لیے بھیج دیا ہے۔ انتظامیہ نے بتایا کہ عقیدتمندوں کو فورا علاج ملنے سے جان کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ زہریلے پرساد کی وجہ سے کچھ معاملوں میں عقیدتمندوں کی اموات بھی ہوئی ہیں۔ 2018میں چامراج نگر ضلع کے ہنور تعلقہ واقع سلواڑی گاوں میں کچوگٹی مرما مندر میں پرساد کھانے کے بعد 100سے زائد بھکت بیمار پڑ گئے اور 17لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ کی تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ کچوگٹی مرما مندر واقعہ میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *