urdu news today live

دھرمستھلادےہات مےں گڑے مردے اکھاڑنے کی کارروائی
شکاےت کنندہ کی طرف سے نشان زد13مقامات پرکھدائی
بنگلور۔29جولائی (سالارنےوز)اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے ایک گمنام شخص کی شکایت پر اپنی تحقیقات جاری رکھی ہے ۔ دھرمستھلا کے اےک گرام میں بااثر لوگوں کی ہدایت پر کئی لاشیں دفن کی گئیں۔ تفتےشی ٹیم نے پیر کو شکایت کنندہ کی طرف سے دکھائے گئے کئی مقامات کو نشان زد کیا تھا، اس شکاےت کی بنےادپرآج منگل کو ان مقامات کی کھدائی شروع کر دی گئی ہے۔ تفتیشی ٹیم نے گواہ شکایت کنندہ کو بھی منگل کو موقع پر لایا ہے۔ پےرکے روز شکاےت کنندہ کی طرف سے نےتراوتی اسنان گھاٹ کے قرےب نشان زد 13 جگہوں پرمزدوروں کی مددسے اےس آئی ٹی نے کھدائی شروع کر دی ہے ۔ گڑھے مردے نکالنے کے لےے مزدورکدال،سبل اورپھاﺅڑالےکرپہنچے اورکھدائی شروع کردی ہے۔ داخلی سلامتی ڈویزن کے ایس پی جتیندر کمار دیاما تحقیقاتی عمل کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ سول رائٹس انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ایس پی سی اے سائمن اور پتور سب ڈویزنل آفیسر سٹیلا ورگیس سمیت سینئر افسر موقع پر موجود ہیں۔ ان کے ساتھ منگلورو کے کے ایم سی اسپتال سے ڈاکٹر جگدیش راو¿ اور ڈاکٹر رشمی کی قیادت میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو بھی طبی معائنہ کے لیے موقع پر بلایا گیا ہے۔ پورے علاقہ میں پولیس کے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور میڈیا کے داخلہ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پےرکے روز نشاندہی کی گئی جگہوں پر سرخ فیتے باندھے گئے تھے جس کی حفاظت کے لےے بندوقوں کے ساتھ پولیس اہلکار رات بھرپہرہ دےتے رہے۔ ایک گمنام شخص نے 3 جولائی کو پولیس سے شکایت کی تھی کہ اس نے دھرمستھلا گرام میں سینکڑوں لاشیں دفن کی ہیں۔ بعد ازاں اس نے بطورثبوت اےک لاش کی ہڈےوںکاڈھانچہ خود اس جگہ سے لاےا جہاں اس لاش کوپہلے دفنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس معاملہ نے پورے ملک کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ اس تناظر میں ریاستی حکومت نے اس معاملہ کی جامع تحقیقات کے لیے پراناﺅ موہنتی کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم کوتشکےل دےا تھا۔ ٹیم نے پیر کی شام 6 بجے تک دھرمستھلا دےہات کے آس پاس ایک بڑا سرچ آپریشن کیا۔اس موقع پر ایس آئی ٹی کی ٹیم نے گمنام شکایت کنندہ کو ماسک مےں لے آئی اور اسے صبح سے شام تک دھرمستھلا میں نیتراوتی اسنان گھاٹ کے جنگلاتی علاقہ میں خفیہ مقامات پر لے گئی اور تلاشی مہم چلائی۔ شکایت کنندہ کے اشارہ کردہ مشکوک علاقوں میں تلاشی لینے والے ایس آئی ٹی افسران اور عملہ نے اس کی موجودگی میں اس جگہ کی مکمل تصویر ریکارڈ کی تھی۔ وہ ان جگہوں میں جی پی ایس کے ذریعہ داخل ہوئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *