urdu news today live

داخلی ریزرویشن کا فیصلہ ہونے تک کوئی بھرتی نہیں: ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل
بنگلورو، 11 اگست(سالار نیوز) سرکاری میڈیکل کالجوں میں خالی آسامیاں صرف اس وقت پر کی جائیں گی جب ریاستی حکومت داخلی ریزرویشن کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ لیتی ہے، ےہ بات پےر کے رو ز ریاستی وزیر برائے میڈےکل ایجوکیشن اور ہنر مندی ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے قانون ساز کونسل میں کہی۔پیر کو وقفہ سوالات کے دوران رکن منجے گوڑا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایچ این ناگموہن داس نے داخلی ریزرویشن کو لاگو کرنے سے متعلق حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے۔ اس رپورٹ پر گزشتہ ہفتے کابینہ کے اجلاس میں پہلے ہی بحث ہو چکی ہے اور امکان ہے کہ آئندہ خصوصی کابینہ اجلاس میں حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔جب تک حکومت داخلی ریزرویشن پر اپنے موقف کو حتمی شکل نہیں دیتی، وزیر اعلی نے ہدایت دی ہے کہ کسی بھی محکمے کے کسی بھی عہدہ پر بھرتی نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتے۔انہوں نے اعدادوشمار کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل کالجوں میں کل 21,860 منظور شدہ آسامیاں ہیں جن میں سے 9,413 کو پر کر دیا گیا ہے اور 12,447 خالی ہیں۔ ان آسامیوں کے باوجود میڈیکل کالجوں میں طلبا کی پڑھائی یا اسپتالوں میں مریضوں کے علاج معالجے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے تمام ضروری احتیاطی اقدامات اٹھائے ہیں۔میڈیکل کالجوںکے ڈائرکٹرز اور متعلقہ اہسپتالوں کے سربراہان کو ہدایت کی گئی ہے کہ جہاں ضرورت ہو آو¿ٹ سورسنگ کی بنیاد پر عملہ تعینات کریں۔ اس سے قبل یادگیر، رائچور، کلبرگی اور چند دیگر مقامات کے میڈیکل کالجوں کو عملے کی کمی کا سامنا تھا، لیکن اب ان پر توجہ دی گئی ہے۔ کسی بھی کالج یا اسپتال کو اس وقت کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہے، اگر کوئی مسئلہ ہمارے نوٹس میں لایا جائے تو اسے فوری طور پر حل کیا جائے گا۔

6 thoughts on “

  1. Thanks for every other informative blog. Where else may I am getting that type of info written in such an ideal approach? I’ve a project that I am just now working on, and I have been at the look out for such info.

  2. Hey there, You have done an incredible job. I will certainly digg it and in my opinion recommend to my friends. I’m sure they’ll be benefited from this web site.

  3. Simply want to say your article is as astounding. The clarity in your post is just excellent and i can assume you are an expert on this subject. Fine with your permission let me to grab your RSS feed to keep updated with forthcoming post. Thanks a million and please carry on the enjoyable work.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *