بنگلورو۔4ستمبر(سالار نیوز)ریاستی حکومت نے تمام طبی اداروں اور پریکٹیشنرز کی قانونی ذمہ داری کی یا د دہانی کرواتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ حادثے کے متاثرین کو بغیر کسی تاخیر یا پیشگی ادائیگی کے مطالبہ کے ہنگامی علاج فراہم کریں۔حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں حادثے کے متاثرین کو قانون کی دفعات اور ریاست میں حادثے کے متاثرین کے علاج سے متعلق کرناٹک میں مروجہ اسکیموں کے بارے میں ہدایات دیں۔سرکلر نے واضح کیا کہ کرناٹک پرائیویٹ میڈیکل اسٹیبلشمنٹ ایکٹ، 2007 کے تحت، ’حادثہ کا شکار‘ کی اصطلاح میں نہ صرف سڑک کے حادثات بلکہ حادثاتی طور پریاخود سوزی سے جلنے یا زہر دینے یا مجرمانہ حملے اور اس طرح کے طبی قانونی یا ممکنہ میڈیکو قانونی معاملات بھی شامل ہیں۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ جب بھی اس طرح کے حادثہ کا شکار کسی طبی ادارے میں آتا ہے یا کسی طبی ادارے کے سامنے لایا جاتا ہے، تو اس سے پیشگی ادائیگی پر اصرار کئے بغیر ہنگامی حالات(ایمرجنسی) میں علاج کیا جانا چاہیے۔سرکلر میں کہا گیا کہ کسی بھی خلاف ورزی پر دفعہ 19(5) کے تحت ایک لاکھ روپے تک کے جرمانے لگایا جا سکتا ہے۔کرناٹک گڈ سمیریٹن اینڈ میڈیکل پروفیشنل ایکٹ، 2016 کا حوالہ دیتے ہوئے، حکومت نے یاد دلایا کہ ہر اسپتال کو فوری طبی اسکریننگ کی خدمات اور ابتدائی طبی امداد مفت فراہم کرنے اور مناسب علاج فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی، تاکہ کسی بھی ایسے زخمی شخص کی صحت کی حالت کو بہتر بنایا جا سکے۔اس میں کہا گیا کہ سہولیات کی کمی والے ہسپتالوں کو مکمل میڈیکل ریکارڈ کے ساتھ وسرے اسپتال کو منتقلی سے پہلے مریض کو مستحکم کرنا چاہیے۔سرکلر میں موٹر وہیکلز ایکٹ 1988 کے سیکشن 187 کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ تعمیل نہ کرنے پر تین ماہ تک قید یا 500 روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے، اور دوبارہ جرم کرنے پر چھ ماہ تک قید یا ایک ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔روڈ ایکسیڈنٹ وکٹمز اسکیم، 2025 کے کیش لیس ٹریٹمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، سرکلر میں بتایا گیاہے کہ سڑک حادثہ کا شکار کسی بھی نامزد اسپتال میں حادثے کی تاریخ سے سات دنوں کی مدت تک ایک لاکھ پچاس ہزار روپے فی متاثر کی رقم کے بغیر کیش لیس علاج کا اہل ہوگا۔ریاستی روڈ سیفٹی کونسل ©موٹر وہیکلز ایکسیڈنٹ فنڈ سے رقم کی ادائیگی کے لئے نوڈل ایجنسی کے طور پر کام کرے گی۔سرکلر نے یاد دلایا کہ کرناٹک میں پہلے سے ہی 48 گھنٹے تک حادثے کے متاثرین کے بلا نقد علاج کےلئے ریاستی سطح کی اسکیم موجود ہے، جس میں سرکاری اسپتالوں، میڈیکل کالجوں، اور ایس اے ایس ٹی مقررہ اسپتالوں میں زندگی بچانے والی 76 خدمات کا احاطہ کیا گیا ہے۔سرکلر میں کہا گیا کہ ہر رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر اور ہر میڈیکل اسٹیبلشمنٹ حادثے کے شکار کو بغیر کسی تاخیر یا انکار کے ابتدائی طبی امداد فراہم کرے گا اور اسے مستحکم کرے گا، ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ اوپر بیان کردہ سزا کے لیے ذمہ دار ہوگا۔ مندرجہ بالا دفعات پر عمل درآمد کے لئے ذمہ دار ہر اتھارٹی حادثے کے شکار کو ان صحت کی سہولیات کے حصول کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔