ریاست میں گزشتہ 5 سالوں میںپوکسوکے 13ہزارکےس درج
بنگلور۔13ستمبر(سالارنےوز)ریاست کرناٹک میں نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ہراساں کرنے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ چونکا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ ریاست میں گزشتہ 5 سالوں میں پروٹیکشن آف چلڈرن فرم سیکسول آفنس ایکٹ (پوکسو)کے تحت 12,943 کیس درج کیے گئے ہیں۔ پی او سی ایس او (پوسکو)کے زیادہ تر کیسز عشق مےں مبتلالڑکےوں کی وجہ سے درج ہو رہے ہیں، عشق کاسفرشادی پر نہ پہنچ سکاتوماےوس لڑکی والے لڑکے خلاف پوکسوکےس درج کردےتے ہےں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے معاملات میں سزا کی شرح بھی کم ہو رہی ہے جوکہ تشویش کا باعث ہے۔ خواتین اور بچوں کی بہبود کے محکمے کی معلومات کے مطابق عوامی زندگی برا اثر پڑنے کے خوف سے متاثرہ کے والدین یا خاندان کے افراد قانونی کارروائی کے لیے مناسب جواب نہیں دے رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں ان کی عزت پر برا اثر پڑتا ہے۔ اس وجہ سے پوکسو مقدمات میں سزا کی شرح کم ہو رہی ہے۔ خواتین اور بچوں کی بہبود کے محکمے نے بتایا ہے کہ محکمہ اس قسم کے معاملات میں سزاکی شرح مےں اضافے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ پوکسو ایکٹ بچوں کو جنسی حملوں سے قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے لاگو کیا گیا ہے۔ پوکسو کیس میں، جرم کی سزا عمر قید اور کم سے کم سزا جرمانے کے ساتھ سات سال کی قید ہے۔ اگر 16 سال سے کم عمر لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو قانون 20 سال قید اور جرمانے کی سزا دیتا ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر سزا کی کم ہوتی شرح فطری طور پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ چیلنج یہ ہے کہ اس سے کیسے نمٹا جائے گا۔